اسلامی_طرزِتربیت 174
دنیا میں تقریباً ہر ملک ہر طبقہ ہر شعبہ میں مافیا ہے
مگر کیا آپ جانتے ہیں سب سے بدترین مافیا کونسا ہے؟
مذہبی مافیا سب سے بدترین مافیا ہے
جی ہاں یہ وہ مافیا ہے جو دولت کی جی وجہ سے دیندار افراد پر دھونس جماتا ہے
مذہبی مافیا کی بے شمار اقسام ہو سکتی ہیں مگر میں یہاں آپ کو تین قسم کے مذہبی مافیا کے بارے بتاتا ہوں
پہلی قسم
مسجد کی انتظامیہ
یہ سب سے زیادہ ذلیل و رسوا لوگ ہیں
اگر آپ مسجد انتظامیہ میں ہیں اور پڑھ رہے ہیں تو خدا کا خوف کریں
یہ مسجد انتظامیہ مافیا بدزبان, بدلحاظ لوگ ہوتے ہیں
جس امام کو پیشوا بناتے ہیں اسی بیچارے کو ذاتی ملازم سمجھتے ہیں
ایسے بے غیرت قسم کے لوگ ہوتے ہیں امام کی دو ہزار تنخواہ نہیں بڑھائیں گے بلکہ مسجد کا چندہ لاکھوں کی صورت بینک میں رکھنا منظور کرتے ہیں
بے شمار خزانچی مسجد کے چندے سے کاروبار کرتے ہیں
یہ ایسے کمی کمین طبعیت کے مالک ہوتے ہیں کہ امام اچھا پہن اوڑھ لے تو ان کو تکلیف ہوجاتی ہے
یہ ہر سال مسجد کے واش روم نئے قالین نئی لے آتے ہیں مگر امام کی تنخواہ آج بھی 20 ہزار سے زائد بہت کم جگہ پر ہے
یہ ایسے بدخصلت ہوتے ہیں ساری زندگی رشوت حرام خوری کرتے ہیں بڈھے ہوکر مالِ وقت پر سانپ بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور امام کی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ سن کر یوں لال پیلے ہوتے ہیں گویا ان کا گردہ مانگ لیا ہو
یہ دینی علوم سے جاہل, بد عمل, متکبر لوگ دین کے امین امام کے آقا بن بیٹھتے ہیں
میرے الفاظ آپ کو یقینا سخت لگ رہے ہوں گے مگر کسی امام سے پوچھ کر دیکھیں
ان حرام خور بد عملوں نے دینی پیشواؤں کا جینا حرام کر رکھا ہے
دوسری قسم
مدارس و جامعات کی انتظامیہ ہے
یہ بھی سیٹھ لوگ ہوتے ہیں اور اچھے خاصے عالم و ماہر مفتی کو اپنا ملازم سمجھتے ہیں اور فیکٹری کے ملازم کی طرح پیش آتے ہیں
جن شیوخ الحدیث کی تنخواہ ایک لاکھ سے اوپر ہونی چاہے ان کی تنخواہ یہ نامعقول لوگ بیس سے تیس ہزار کے درمیان دیتے ہیں
تیسری قسم
محافل منعقد کرنے والے سیٹھ صاحبان
یہ اپنی سالانہ زکوٰۃ بھی کسی مدرسے میں نہیں دیتے مگر اپنے چسکے کے نام پر کروڑوں روپے لگا کر مدارس و اھلِ مدارس کو شرمندہ کرتے ہیں
نعت خوانوں کو لاکھ لکھ دیتے ہیں ساتھ ٹکٹ بھی دیتے ہیں
اپنی شہرت کمانے کو محفل میں عمرے کے ٹکٹ بانٹتے ہیں مگر جب ان سے مدارس تعمیر کرنے اور جامعات کے خرچ کے لیئے سوال کیا جائے تو تتے توے پر بیٹھ جاتے ہیں
کہ تم لوگ ہمیشہ مانگتے ہی رہتے ہو
یہ شہر کی مارکیٹوں , فیکٹریوں کے مالک ہوتے ہیں اور ایک محفل پر اتنا اڑا دیتے ہیں جتنے میں دو یا تین جامعات کا سالانہ خرچ ہوتا ہے
مگر کسی جامعہ کی سرپرستی نہیں کرتے
یہ مذہبی مافیا ہیں
یہ خود بے عمل بلکہ بدعمل دین کے دشمن لوگ ہیں جو علم و علماء سے بھاگتے ہیں اور جو پیسہ دینی اداروں پر لگایا جانا بنتا ہے وہ اپنی مرضی سے اڑاتے ہیں
ان کے پاس دین کی خدمت کرنے کا بڑا حسین موقع ہوتا ہے مگر یہ خدمتِ دین کی بجائے نقصان دیتے ہیں
اگر آپ مسجد انتظامیہ, مدرسہ انتظامیہ, محفل انتطامیہ میں ہیں اور شرعی طریقے پر کام کر رہے ہیں تو مبارک باد کے مستحق ہیں
بصورتِ دیگر مافیا ہیں اور مافیا بھی وہ جو ڈرگ مافیا, بھتہ مافیا سے زیادہ خطرناک ہیں!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
