چور پکڑنے کا انوکھا عمل

مجرب_وظائف_و_عملیات 9

حضرت وکیع کا ایک پڑوسی تھا اس کے بچوں میں سے کسی بچے نے چوری کر لی
معلوم نہیں ہو پا رہا تھا کہ چور کون ہے
وکیع نے فرمایا کھانا تیار کرو اور میرے پاس لاؤ
کھانا تیار کیا گیا انہوں نے فرمایا بچوں کو لاؤ
اور ان کو یہ کھانا کھلاو جب کھانا شروع ہوا تو ایک بچے کو اُچھو لگ گیا
(یعنی کھانا گلے میں اٹک گیا) اور وہ مرنے کے قریب ہوگیا
فرمایا
یہی چور ہے
جب اس بچے سے پوچھا گیا تو اس نے چوری نے اقرار کر لیا
لوگوں نے پوچھا آپ نے ایسا کیا کیا کہ اس کو اُچھو لگ گیا اور اس کی چوری کا انکشاف ہوگیا؟
حضرت وکیع نے فرمایا میں اس کھانے پر یہ آیت کریمہ پڑھی تھی
يَتَجَرَّعُهُ وَلاَ يَكَادُ يُسِيغُهُ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍ وَمِن وَرَآئِهِ عَذَابٌ غَلِيظٌ

بہت مشکل سے اسے گھونٹ گھونٹ کر کے پیئے گا اور گلے سے نیچے اتارنے کی امید نہ ہوگی اور ہر طرف سے اسے موت آئے گی مگر وہ مرے گا نہیں اور اس کے پیچھے درد ناک عذاب ہے
{ سورہ ابرہیم آیت 17 }

یعنی جن چند پر چوری کا خدشہ ہو ان کے کھانے وغیرہ پر یہ آیت پڑھ کر دم کریں اور کھلا دیں
ان میں سے جو چور ہوگا کھانا اس کے لیئے مشکل ہو جائے گا
° یاد رکھیں ظن کی بناء پر کسی کو چور کہنا حرام ہے °
جب تک آنکھیں نہ دیکھ لیں یا گواہ قائم ہو نہ ہو جائیں یا چوری شدہ سامان برآمد نہ ہو جائے یا وہ خود اقرار نہ کر لے کسی کو چور کہنا حرام ہے

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top