اسلامی_طرزِتربیت 79
یہودی و عیسائی لابی نے مسلم ملکوں میں ایسا نظام رائج کروا دیا کہ ملک کے ارباب حل وعقد آپس میں باھم دست و گریباں ہیں
حکومت
اپوزیشن
پارلیمنٹ
سینٹ
آپس میں جانوروں کی طرح لڑتے رہتے ہیں
یہ ان اندورنی جھگڑوں سے باز آتے تو جہاد فی سبیل اللہ کی بات کرتے
ان میں سے آج تک کوئی عقل مند نہیں آیا جو یہ کہ کر جمہوری نظام بند کرے کہ یہ کیا تماشا ہے ؟
جو جیت گیا وہ بھی کھل کر کام نہیں کر سکتا جو ہار گیا وہ جیتے ہوئے تو لگام کیسے ڈال سکتا ہے
ستر سال کی پاکستانی تاریخ میں کوئی ایسا دن آیا ہے جس دن پارلمنٹ میں جہاد فی سبیل اللہ کی بات کی گئی ہو؟
جہاد صرف انڈیا کے خلاف نہیں بلکہ تمام عالم کفر کے خلاف ہوگا لیکن ہمارے حکمرانوں کا جہاد صرف انڈیا تک محدود ہے
کیوں؟
کیا ساری دنیا مسلمان ہوگئی ہے؟
یا سب جزیہ دے رہے ہیں؟
اور یہ سوچنا حماقت و جہالت ہے کہ ہماری طاقت کم ہے اس وقت جہاد صاف خودکشی ہے وغیرہ وغیرہ
کیونکہ جنگ ہمیشہ ایسے دو گروہوں کے بیچ ہوتی ہے جن میں ایک طاقت ور دوسرا کمزور ہوتا ہے
پچھلے چودہ سو سالوں میں مسلمان شاید ہی کسی جنگ میں کفار کے مقابلے میں مضبوط رہے ہوں
دو عالمی جنگیں ہو چکی ہیں کیا مسلمان مٹ گئے؟
اب اگر ایٹمی جنگ بھی ہوجائے تب بھی مسلمان مٹنے والے نہیں ہیں
جب سے حکمرانوں نے جنگ ترک کی مسلمان ہر جگہ ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں
مسلمان کی شان و شوکت و عزت جہاد فی سبیل اللہ میں ہے
اور جہاد سے مراد امریکہ سے لیکر اسٹرلیا تک ناروے سے لیکر چین تک سبھی کے ساتھ ایک سا سلوک ہو
لیکن ہم اندورنی پارلمنٹ و سینٹ سے فارغ ہوں تو باہر جہاد کریں
ستر سال سے ملک کا ڈھانچہ ہی ٹھیک نہیں ہو رہا
کوئی مستقل تحریک و تنظیم ہی نہیں ہے جو ہر حکومت کو جہاد پر ابھارے
مسلمان مہنگائی اور لوٹ مار کا رونا روتے ہیں مگر کبھی جہاد و خلافت کی بات نہیں کرتے, اربابِ اختیار سے جہاد کا مطالبہ نہیں کرتے تبھی ذلیل ہیں
یاد رکھیں
عزت کا مطالبہ کریں تو تو عزت ملے گی اور ہماری عزت جہاد ہے یہ کیا صرف کھانا پینا اور سہولیات پر رونا دھونا ڈالا ہوا ہوتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
