عجائباتِ_عالم 41
°°° سات زمینوں کے نام اور ان پر آباد مخلوق °°°
مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھا اللہ رب العزت کے اس فرمان کا کیا مطلب ہے؟
الله الذى خلق سبع سموات و من الأرض مثلهن
اللہ ہی ہے جس نے سات آسمان پیدا فرمائے اور زمینیں بھی آسمانوں کی مثل پیدا فرمائیں
فرمایا کہ
اگر میں اس کی تفسیر بیان کروں تو تم کفر کر بیٹھو گے
پھر فرمایا
سبع أرضين في كل أرض نبي كنبيكم وآدم كآدمكم ونوح كنوحكم وإبراهيم كإبراهيمكم وعيسى كعيسكم
سات زمینیں ہیں
ہر زمین میں تمہارے نبی جیسا ایک نبی تمہارے آدم جیسا ایک آدم تمہارے نوح جیسا ایک نوح تمہارے ابراھیم جیسا ایک ابراھیم اور تمہارے عیسی جیسا ایک عیسی ہے
اس روایت کی سند کو علماء نے صحیح فرمایا ہے
اگرچہ معنوی اعتبار سے کلام کیا ہے مگر اسکی کچھ صحیح تاویلات بھی ہیں
اول
وہاں زمینوں پر مخلوق آباد ہے جن کا نظام بالکل ہمارے جیسا ہے
ان کے سب سے پہلے باپ کا نام آدم ہے اور آخری نبی کا نام محمد ہے
دوم
یہاں سے آدم ، ابراھیم ، موسی ،محمد نام کے جنات وہاں جا کر تبلیغ کرتے ہیں
سوم
یہاں کے اکابر اولیاء وہاں جا کر تبلیغ کرتے ہیں جو ان ناموں سے مشہور ہیں
جدید سائنسی نظریات کو دیکھا جائے تو وہ بھی ایسے سیارے تلاش کرنے کے چکر میں ہیں جہاں ہم جیسے لوگ آباد ہوں
اسی سلسلے کی دنیا کی سب سے بڑی لیباٹری سرن نے بھی اس پر کام شروع کر رکھا ہے
اور بلیک ہول تلاش کرنے کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے
بلیک ہول دوسری دنیا میں جانے کا ایک دروازہ مانا جاتا ہے
تو شریعت اور سائنس دوسری دنیا کے وجود کے لحاظ سے ایک نکتے پر متفق ہوتے نظر آتے ہیں
تفسیر طبری میں ہے کہ سات زمینیں ہیں اور ہر ایک زمین سے دوسری زمین تک کا فاصلہ پانچ سو سال ہے
اس حساب سے اگر ہم فرض کریں کہ انسان کے چلنے کی رفتار 3 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے
تو 500 سال کا سفر یہ ہوگا
3 کلومیٹر 24h365500ans
تو نتیجہ 13 ارب کلومیٹر ہو گا
یعنی ایک زمین سے دوسری زمین کا فاصلہ 13 ارب کلو میٹر ہوگا
ظاہر سی بات ہے انسان ابھی اتنی تیزی سے سفر کرنے کے قابل نہیں ہوا کہ 13 ارب کلو میٹر سفر طے کر سکے
اسی لیئے دوسری دنیا میں جانے سے محروم ہے
جدید سائنس کے مطابق کئی دنیاؤں کا تصور الگ الگ ہے
کہ وہاں مخلوق بالکل ہم جیسی ہوگی
شاید ہماری شکل و صورت نام و مقام و مکان بالکل ایک جیسے ہوں
اور کبھی کبھار ہمیں خیال گزرتا ہے کہ ہم یہاں سے گزر چکے ہیں یا یہ کام ہم پہلے کر چکے ہیں حالانکہ وہاں کبھی گئے نہیں ہوتے نہ وہ کام کیا ہوتا
تو یہ خیال گزرنا اس لیئے ہوتا ہے کہ شاید ہمارے اسی ہمنام و ہمشکل شخص کے ساتھ وہ بیت چکا ہو اور ہمارے ساتھ بعد میں پیش آرہا ہو
باقی ساری دنیائیں ہماری زمین سے وقت کے لحاظ سے آگے ہیں
مگر یہ یاد رکھیں ہماری دنیا سب زمینوں کا مرکز و محور ہے
کیونکہ جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری یہاں ہوئی ہے
اور حضور خاتم النبیین ہیں
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہر لحاظ سے خاتم النبیین ہیں
یہاں پر بعض لوگ بچگانہ اور علم سے محرومانہ اعتراض کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کی حدیث اسرائیلیات میں سے ہے
ان نا دانوں کو یہ بات بھول جاتی ہے کہ وہ ترجمان القرآن ہیں
اگرچہ اسرائیلیات میں سے ہو وہ خود امام المفسرین اور عظیم صحابی ہیں ان کو بخوبی معلوم ہے کہ کیا صحیح ہے کیا غلط ہے
اسی وجہ محدثین نے اس حدیث کو سنداً صحیح جبکہ متناً مضطرب کہا ہے جبکہ میں کہتا ہوں یہ حدیث قرآنِ کریم کے متشابہات کی طرح ہے
اس سے کہیں بھی یہ اشارہ نہیں ملتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی کسی لحاظ سے کسی دنیا میں کسی نام سے کسی کام سے کسی حیثیت سے آ سکتا ہو
بہر حال
عرائس المجالس میں امام ثعلبی نے سات زمینوں کے نام بیان کیئے ہیں
پہلی زمین کا نام ادیما دوسری کا نام بسیطا تیسری کا نام تقیلا چوتھی کا نام بطیحا پانچویں کا نام متثاقلہ چھٹی کام نام ماسکہ اور ساتویں وہ جس پر ہم موجود ہیں
ایک پر ہم آباد ہیں
دوسری پر تیز ہوائیں چلتی ہیں
تیسری پر انسانی شکلوں جیسی مخلوق آباد ہے اور وہ ایک لمحہ بھی گناہ نہیں کرتے
چوتھی پر کبریت کے پتھر ہیں
اللہ رب العزت کی مخلوقات کتنی ہیں کوئی نہیں جان سکتا
اور جہان کتنے ہیں دنیائیں کتنی ہیں اس کے بارے علماء نے مختلف اقوال فرمائے ہیں
کچھ کہتے ہیں سترہ ہزار جہان ہیں
کچھ کے نزدیک ستر ہزار جہان ہیں
کچھ کے نزدیک اٹھائیس ہزار جہان ہیں
کچھ کہتے ہیں ایک سو بیس جہاں ہیں
کچھ کے نزدیک ہزاروں جہان ہیں
اور ہر جہاں ہماری دنیا جیسا عظیم جہاں ہے
اور شاید ہزاروں جہانوں میں انسان جیسی مخلوق صرف سات زمینوں پر آباد ہیں
دوسرے جہانوں میں اور طرح کی مخلوقات ہوں گی
اسی لیئے قرآن کریم میں بار بار زمینوں کا ذکر آتا ہے
کیونکہ وہاں بھی ہم جیسے لوگ آباد ہوں گے جو شریعت و دین کے پابند ہوں گے
اتنی بڑی کائنات کا مالک و خالق ایک ہی ہے وہی معبود برحق ہے
اور اس نے ساری کائناتیں سارے جہاں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے بنائے ہیں
اور ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو سب جہانوں کے لیئے رحمت بنایا ہے
جیسا کہ قرآن کریم میں واضح فرما دیا
وما ارسلنک الا رحمة للعالمین
کہ اے پیارے ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیئے رحمت بنا کر بھیجا ہے
اب مخلوقات کھربوں میں ہوں اور جہاں لاکھوں میں ہوں سب کے لیئے رحمت ہمارے ہی نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہیں
ہائے کسی محبوبیت ہے کہ کھربوں جہانوں کا ایک ہی محبوب ہے وہی مرکزِ محبت وہی محورِ محبیت ہے
حسان الہند کہتے ہیں
نہ دلِ بشر ہے فگار ہے کہ مَلَک بھی اس کا شکار ہے
یہ جہاں کہ ہژدہ ہزار ہے جسے دیکھو اس کا شکار ہے
کہ جن و ملک حور و غلماں انساں و جناں سب اسی کے عاشق ہیں
رب العالمین کا کروڑوں بار شکر ہے کہ اس نے ہمیں سیدِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا امتی بنایا اور دعاء ہے اسی غلامی میں ہمیں موت عطاء فرمائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
