نوجوان کی حدث اور بزرگ کا تدبر

المزاح_و_الظرافت 78

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں
سوائے ایک نوجوان کے مجھ پر کوئی غلبہ نہیں پا سکا
میں نے ایک عورت کو پیغامِ نکاح دیا تو ایک نوجوان مجھے کہنے لگا
اے امیر آپ کے لیئے اس عورت میں کوئی بھلائی نہیں ہے
میں نے کہا
کیوں ؟
کہنے لگا
میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو اس عورت کو چوم رہا تھا
مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں اس کی بات سن کے میں نے اس عورت سے نکاح کا ارادہ ترک کر دیا
کچھ عرصے بعد مجھے خبر ملی کہ اس نوجوان نے اُسی عورت سے شادی کر لی ہے
میں نے نوجوان سے کہا تم نے تو کہا تھا کہ اسے کوئی آدمی چوم رہا تھا
کہنے لگا ہاں وہ اس کا باپ تھا

کتاب الاذکیاء لابن الجوزی
نوجوانوں میں حدت ہوتی ہے جس کی وجہ سے مختلف حیلے بہانوں سے مقصد پانے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں مگر یہی حدت تدبر و حکمتِ عملی سے دور کر دیتی ہے
حضرت مغیرہ بن شعبہ اور ایک نوجوان نے کسی عورت کو پیغامِ نکاح بھیجا تو اس عورت نے دونوں کو بلوایا اور کہا آپ دونوں پاس باتیں کریں میں آپ کی باتیں سنوں گی
حضرت مغیرہ سمجھے کہ عورت نوجوان کو ترجیح دے گی
جب دونوں حاضر ہوئے تو حضرت مغیرہ نے نوجوان کو فرمایا
تمہیں حسن و جمال و ملا ہے اور تم اچھا بولتے ہو ان کے سوا تمہاری کیا خوبیاں ہیں؟

نوجوان نے اپنی اور خوبیاں شمار کروا دیں پھر خاموش ہو گیا
حضرت مغیرہ نے پوچھا
تمہارا حساب کیسا ہے ؟
کہنے لگا
اگر ذرہ بھی گر جائے اسے نہیں چھوڑتا
مغیرہ نے فرمایا
لیکن میں گھر کے کونے میں موتی رکھ دیتا ہوں میرے گھر والے اسے جہاں چاہیں خرچ کر دیں مجھے اس کے ختم ہونے کا علم تب ہوتا ہے جب وہ کسی اور شے کا سوال کریں
تو عورت نے کہا

والله لهذا الشيخ الذي لا يحاسبني أحب إليَّ من الذي يحصي عليَّ أدنى من الخردلة
خدا کی قسم یہ بوڑھا جو مجھ سے حساب نہ لے اس نوجوان سے زیادہ بہتر ہے جو مجھ سے ذرے کا حساب لے
کتاب الاذکیاء لابن الجوزی
دیکھیں یہاں جوان جی حدت اس کے تدبر مسلط ہو گئی اور ہار گیا
بذرگ کو پتا ہوتا ہے کہ عقلمند عورت کھلے دل کھلے ہاتھ مرد کو پسند کرتی ہے
ہیجڑوں کی طرح شکلیں رکھنے والے نوجوان کو عقلمند عورت پسند نہیں کرتی
کیونکہ یہ شکلاً مخنث اور عقلاً بچے ہوتے ہیں
ہاں جب بزرگ بندہ تدبر و حکم چھوڑ کر جلد بازی سے فیصلہ کرے گا تو پہلے نوجوان کی طرح اس پر کوئی غلبہ پا ہی لے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top