نامِ حُسَین

آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 38

اسمِ گرامی امام عالی مقام حسین کے اپنے راز و کمالات ہیں
حُسَین
اگر آخری دو حرف ہٹا دیں تو حس بنتا ہے جس کا معنی احساس ہے
امام حسین کو احساسِ امت تھا اسی احساس میں گھر کے سارے افراد شہید کروا دیئے تاکہ نانا جان صلی اللہ علیہ وسلم کا دین محفوظ رہے
اگر بیچ سے سین نکال دیں تو حی بنتا ہے
وہ ایسے زندہ ہیں کہ نسلِ یزید نے گئی نامِ حسین زندگی و حریت کا نشان بن گیا
اگر بیچ سے سین اور یا نکال دیں تو حن بنتا ہے جس کا معنی شوق ہے کیونکہ شوقِ شہادت میں جان بوجھ کر کربلاء میں خیمے لگوائے
اگر پہلا حرف نکال دیں تو سین بنتا ہے جو کہ بعض علماء کرام کے نذدیک حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے
اس مبارک نام کا ذکر یاسین ہے
یہاں یا حرف نداء ہے
کوئی اعتراض کر سکتا ہے کہ یہ تکلفات ہیں تو اس کا جواب ہے کہ اولیاء کرام کے نذدیک علم الحروف باقاعدہ ایک علم ہے
اللہ رب العزت جسے ولایت عطاء فرماتا ہے اسے حروف کے علوم عطاء فرماتا ہے جس سے وہ ماکان و ما یکون کے راز و حادثات جان لیتے ہیں
حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن و حسین و محسن کے نام لکھے پھر فرمایا

إنما سميتهم بولد هارون شبر وشبير ومشبر
میں نے ان کے نام ھارون علیہ السلام کے بچوں کے نام پر رکھے جن کا نام شَبَّر شَبِّیر اور مُشَبِّر تھا
{ ابن حبان}
حسین نام کی یہ بھی خاصیت ہے کہ اھلِ عرب میں سے کسی نے حسین نام نہیں رکھا تھا
جب شانیں اتنی بلند ہوں تو امتحان بھی کڑے ہوتے ہیں
✍️ #سیدمہتابعالم

Scroll to Top