نام کا شخصیت پر اثر

اسلامی_طرزِتربیت 46

مولا علی کا فرمان ہے
اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے بذرگوں کی عادات تمہارے بچوں میں آجائیں تو تم اپنے بچوں کے نام بذرگوں کے نام پہ رکھا کرو
اھل عرب کہتے ہیں
لكلِّ امرئٍ من اسمه نصيبٌ
ہر آدمی کے نام میں سے اس کا حصہ ہوتا ہے
یعنی آپ کا جو نام ہوگا اس کے معنی کا آپ کی ذات پر اثر پڑتا ہے
میرا مشاہدہ ہے احمد رضا نام کے بچے بہت ذہین ہوا کرتے ہیں
اور پکے سنی بھی ہوتے ہیں
کیونکہ نامِ پاک بہت برکت والا ہے
یہ نام کی تاثیر ہی تو ہے کہ مجمع میں جب نعرہ حیدری لگتا ہے تو
گردشِ لہو بڑھ جاتی ہے
دل کی دھڑکن عروج پہ پہنچ جاتی ہے
اعتماد آسمان کو چھونے لگتا
قلب و روح کی گہرائیوں سے جب
یا علی
کا نعرہ بلند ہوتا ہے تو آسمان ہل جاتا ہے زمین دہل جاتی ملائکہ خوش ہوتے ہیں قوتِ بازوئے مسلم میں فیضانِ علی سرایت کر جاتا ہے
ناصبیت و خارجیت و رافضیت بھیگی بلی بن جاتے ہیں

مولا علی کا نام ہی ایسا ہے کہ جب سنی پکارتا ہے تو
روافض کی جھوٹی محبت کی سٹی گم ہو جاتی ہے
نجد میں کہرام مچ جاتا ہے
ناصبیت ماتم کناں ہوجاتی ہے
یا علی المدد
سکندر ذوالقرنین نے ایک اچھے نام مگر بد طبعیت آدمی کو دیکھا تو فرمایا
نام اچھا ہے تو عادتیں بھی اچھی کرو ورنہ نام بدل دو`
کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ شخصیت نام کا اثر قبول نہیں کر پاتی
اس کی وجہ ماحول کا اثر یا طبعیت کی کجی ہوتی ہے

مگر عموماً نام کا اثر ہوتا ہے
آپ بھی بتا سکتے ہیں کہ آپ کے تجربہ میں کس نام کے کیا اثرات ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top