عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 11
نظرُ المحبِّ إلىٰ المُحبِّ، سلامْ
والصَّمتُ بينَ العارفين كلامْ
مُحِب کا مُحِب کی طرف دیکھنا ہی سلام ہے اور عارفین کے بیچ خاموشی کلام ہے
یعنی کہ شرابِ محبت آنکھوں سے پلائی جاتی ہے نہ پیالے اٹھانے پڑتے ہیں نہ زبان چلانی پڑتی ہے
بس نگاہیں اٹھا کر جام کے جام پلائے جاتے ہیں
میرے نذدیک زبانوں سے زیادہ آنکھیں فصیح ہے
جس بات کو زبان بیان نہ کر سکے آنکھیں بیان کر دیتی ہے
✍️ سیدمہتاب_عالم#
