مولا علی کے ذکر پر صلی اللہ علیہ وسلم کہنا

آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 33

تہذیب التہذیب میں امام ابن حجر عسقلانی نے
سعید بن محمد بن سعید جرمی کے بارے فرمایا
جب بھی ان کے سامنے مولا علی کا ذکر ہوتا تو یہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہتے تھے

بلکہ سیر اعلام النبلاء میں تو اتنا ہے کہ
کبھی کبھار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر پر یہ چپ رہتے اور مولا علی کے ذکر پر صلی اللہ علیہ کہتے تھے

اس کے باوجود ان کے بارے محدثین کے اقوال نقل کیئے کہ ابن نمیر و ابن ابی شیبہ نے انکی تعریف کی امام یحییٰ ابن معین نے انکو صدوق کہا اور امام ابو داؤد نے انکو ثقہ کہا اور امام ابو حاتم نے ان کو شیخ جیسے عظیم لقب سے ملقب کیا ہے
اور امام بخاری و مسلم نے ان سے روایت بھی کی ہے

مولا علی کا ذکر آئے اور یہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں کسی نے ان پر نہ تو شرک فی النبوۃ کا فتویٰ دیا نہ غالی رافضی کہا ہے
حالانکہ طالبِ اصولِ حدیث پر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ناقدین ذرہ بھی کسی کی پرواہ نہیں کرتے اور عقائد کے باب میں بالکل لچک نہیں رکھتے
مگر ہمارے ہاں علم و اصول سے کورے ہلکی سی بات پر اھل سنت سے خارج نہیں بلکہ دین و ملت سے خارج کر دیتے ہیں
علم اگر اصول پر مبنی ہو تو نرمی لاتا ہے اور اگر علم بے اصول ہو تو تشدد و بے جا تعصب لاتا ہے
°°° مذکورہ باتوں سے ہرگز کوئی منفی پہلو نہ نکالے اور نہ آج مولا علی کے ذکر پر صلی اللہ علیہ وسلم کہنے کو جائز کہے بس محدثین کے مطابق نرمی و سختی کا معیار رکھے °°°
مگر یہ بھی غور کریں کہ آج صرف اھلِ بیت کے ساتھ علیہ السلام کہنے سے کسی کے رافضی ہونے کا فتویٰ بھی نہ لگائیں
آپ مفتی ہیں آپ نے اصول پڑھے اصول کے مطابق فتویٰ دیا تسلیم ہے پھر بتائیں کوئی اور مفتی اصول کے مطابق یہ کہے تو رافضیت کیوں ؟
مذکورہ ائمہ نے غالی رافضی تو دور رافضی بھی نہیں کہا بلکہ مائل الی التشیع بھی نہیں کہا کیونکہ ایسی باتوں سے عقیدوں کی پہچان نہیں ہوتی
بس یہی باتیں آج کے اھلِ علم کو تحمل سے سمجھنی چاہیئے کہ کوئی اھلِ علم اھل بیت سے محبت کا اظہار کرے تو اسے دل پر نہ لیں کہ غلو کا فتویٰ لگا دیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top