مناظرانہ نہیں صوفیانہ رنگ بھریں

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 68

°°° تم نے کبھی فقیہ دیکھا بھی ہے °°°

جواھر العقدین میں سفیان بن عینہ کا فرمان ہے

لم يعط أحد في الدنيا شيئاً أفضل من النبوة وما بعد النبوة شيء أفضل من العلم والفقه
کسی کو دنیا میں نبوت سے افضل شے نہیں دی گئی اور نبوت کے بعد کوئی شے علم و فقہ سے افضل نہیں ہے ! انتھی
علم کی پہلی منزل توحید و رسالت کا علم ہے اس کے بعد ہزارہا منازل ہیں
اسی معنی سے ملتی جلتی حدیث پاک ترمذی شریف میں ہے
إنَّه لم يُعطَ عبْدٌ شَيئًا بعْدَ اليَقينِ أَفضَلَ مِنَ العافيةِ
بندے کو یقین کے بعد عافیت سے بہتر کوئی شے نہیں دی گئی
یہاں یقین سے مراد توحید و رسالت کا علم ہے اور ان پر ایمان ہے
توحید و رسالت کے علم کے بعد عافیت سب سے افضل شے ہے یعنی توحید و رسالت پر قائم رہنا ہی عافیت ہے
اس کے بعد عافیت کے درجات ہیں صحت و مال و اولاد میں عافیت وغیرہ مگر سب سے اہم عافیت ایمان کی عافیت ہے
الغرض توحید و رسالت کے علم کے بعد سب سے افضل شے علم دینیہ, علم فقہ ہے
احیاء العلوم میں امام غزالی نے فرمایا
وأدنى درجات الفقيه أن يعلم أن الآخرة خير من الدنيا
فقیہ کے درجات میں سے سب سے ادنی درجہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھ لے آخرۃ دنیا سے بہتر ہے! انتھی
ایک بذرگ فرماتے ہیں
اگر دنیا سونے کی اور آخرت پتھر کی ہوتی تب بھی عقلمند آخرت کو اختیار کرتا
کیونکہ دنیا فانی اور آخرت باقی رہنے والی ہے اور پھر دنیا پتھر کی اور آخرت سونے کی بھی ہے.انتھی
اور جو یہ یقین بنا لے گا کہ آخرت بہتر ہے وہ نہ منصب طلب کرے گا نہ شہرت چاہے گا نہ دولت جمع کرے گا نہ دنیا میں پڑے گا
نام نہاد فقیہ ہونا اور حقیقی فقیہ ہونا الگ بات ہے
ابانۃ الکبری میں ابن بطہ ناقل ہیں
امام حسن بصری سے کسی صاحب نے مسئلہ پوچھا بتانے پر کہنے لگے فقہاء تو یوں کہتے ہیں
فرمایا
إنما الفقيه الزاهد في الدنيا الراغب في الآخرة الدائب في العبادة قال وما رأيت فقيهاً قط ولا يماري ينشر حكمة الله فإن قبلت حمد الله وإن ردت حمد الله
فقیہ تو وہ ہے جو دنیا سے کنارہ کشی کرتا ہے آخرت میں رغبت رکھتا ہے عبادت گزار ہے
تو نے کبھی فقیہ دیکھا بھی ہے؟
وہ اللہ کے احکام پہنچانے میں جھگڑتا نہیں ہے
اگر اس کی بات قبول کی لی جائے تو اللہ کا شکر کرتا ہے اگر قبول نہ کی جائے تو بھی اللہ کا شکر کرتا ہے انتھی

لیکن فی زمانہ خود پسندی کا ایسا ماحول ہے کہ ہر عالم کہتا ہے میری بات قبول ہی کی جائے درست ہو یا نا درست ہو
عالمِ ربانی کی نشانی بیہقی کی حدیث پاک میں ہے

أفضل الناس المؤمن العالم الذي إن احتيج إليه نفع وإن استغني عنه أغنى نفسه
لوگوں میں سب سے افضل علم والا مومن ہے وہ کہ جس کی طرف محتاجی ہو تو وہ نفع دے
اگر اس سے بے پرواہی اختیار کی جائے تو وہ اپنے نفس کو بے پرواہ کر دے
معلوم ہوا عالمِ حق لوگوں میں سب سے افضل ہے اور عالمِ حق وہ ہے جو نفع دے مگر اپنی بات منوانے پر ضد نہ کرے ایک مسئلہ بتا دے پھر عوام پر چھوڑ دے عمل کریں نہ کریں
مناظرہ و مجادلہ, قیل و قال مزاجِ اسلام کے خلاف ہے ایسا کرنے والا بظاہر کتب کا حافظ ہوسکتا ہے مگر نورِ عالم کا محافظ نہیں بن پاتا
مدرس علماء کرام کو چاہئے اپنے طلباء میں مناظرانہ رنگ بھرنے کی جگہ صوفیانہ رنگ بھریں
متکلمانہ جوش پیدا کرنے سے بہتر ہے محدثانہ سوچ پیدا کریں
طلباء میں مفسرانہ فقیہانہ طرز پیدا کریں
تاکہ امت میں مصلح پیدا ہوں مفسد نہیں
مفسر, فقیہ, محدث, صوفی پیدا ہوں!
حکم یا تو یہ ہے
اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ
اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو
یا پھر یہ ہے
و اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا
اور جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بس سلام

یعنی دوری اختیار کر لی جائے
نہ اچھے انداز سے مجادلہ نہ سلامِ متارکہ ان دونوں کے بیچ جھگڑا محض فساد اور مزاجِ اسلام کے خلاف ہے!
آپ دیکھیں کون سے طریقے پر ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top