معلم کے آداب

ذاتی_مطالعہ 128

بارون بن عبد اللہ نے فرمایا
رات کے پہر امام احمد بن حنبل نے میرا دروازہ بجایا
میں نے پوچھا
کون ؟
فرمایا
احمد ہوں
میں تیزی سے بھاگا مصافحہ کے بعد میں نے عرض کی خیریت ہے رات میں تشریف لائے ہیں ؟
فرمایا میں دن میں آپ کے پاس سے گزرا تو دیکھا آپ خود چھاؤں میں بیٹھے تھے اور لوگ سورج کی تپش میں تھے
آپ ان کو حدیث بیان کر رہے تھے آئندہ ایسانہ کرنا
جب بھی بیٹھنا تو لوگوں کے ساتھ ہی بیٹھنا
معلم کے آداب میں سے ہے کہ امتیازیت و انفرادیت نہ چاہے { المناقب لابن جوزی }
وہ استاذ جس میں عاجزی زیادہ ہو اس کے طلباء زیادہ قابل ہوتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top