معرفت ہی حیات ہے

عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 14

لا شراب في العشق سوى خمر البقاء
قلت: أعرفك ثم أموت
قال: من يعرفني لا يموت

❗ الرومى ❗

عشق میں سوائے خمرِ بقاء کے کوئئ شراب نہیں ہے.
میں نے کہا میں تجھے پہچان لوں پھر مر جاؤں گا
اس نے فرمایا
جو مجھے پہچان لیتا ہے وہ مرتا نہیں
یہی بقاء و فناء ہے جو اسے پہچان گیا وہ باقی جو نہ پہچان سکا ہلاک ہوگیا

جو کوئی بھی تیری راہ میں مر گیا اپنی زندگی کو جاویداں کر گیا
میں شہیدِ وفاء ہوگیا ہوں تو کیا زندگی میرے گھر سے کہاں جائے گی
شیخِ کامل احمد رضا بریلوی فرماتے ہیں
مرنے والوں کو یہاں ملتی ہے عمرِ جاوید
زندہ چھوڑے گی کسی کو نہ مسیحائی دوست
معلوم ہوا کہ معرفت حیات اور جہالت موت بلکہ موت سے بھی بدتر ہے
وہ جانور سے بھی بدتر ہے جو اپنے مالک کی معرفت حاصل نہ کر سکے
✍️ سیدمہتاب_عالم#

Scroll to Top