عشقِ_سیدِ_عالم 67
خاندانِ رسول صلی الله عليه وسلم سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون مسجد نبوی کے قریب رہتی تھی اسے مسجد کا خادم اذیت دیتا تھا
ایک دن وہ تنگ آ کے قبرِ انور کے پاس حاضر ہوئی اور شکایت کی قبرِ پاک سف آواز آئی
اما لک فی اسوۃ فاصبری کما صبرت
کیا تمہارے سامنے میری سیرتِ طیبہ نہیں ہے ؟ جیسے میں نے صبر کیا تم بھی صبر کرو
❗ رسالة فى إثبات وجود النبى فى كل مكان لحسين بن محمد الشافعى ❗
کیسی دلجوئی تھی کہ مبارک آواز سے جلتے دل کو راحت بخشی
غمِ دنیا و جفائے دنیا داراں سے تھک کر اُن کی بارگاہ میں شکایات کرنے کو دل کرتا ہے مگر شرم آ جاتی ہے کہ کیا حیثیت ہے کونسا منہ ہے جو اُس بارگاہ میں شکایات کرنا چاہتے ہو ؟
بقول حسان الہند
اک طرف اَعدائے دیں ایک طرف حاسدیں
بندہ ہے تنہا شہا تم پہ کروروں درود
عشق کہتا ہے
گندے نکمّے کمین مہنگے ہوں کوڑی کے تین
کون ہمیں پالتا تم پہ کروروں درود
باٹ نہ در کے کہیں گھاٹ نہ گھر کے کہیں
ایسے تمہیں پالنا تم پہ کروروں درود
نہ تین مین نہ تیرہ میں
بس ایک ہمت ہے کہ ان کو خاتم النبیین مانا ہے
یہ گندی زبان ہے کیا یہ کافی نہیں کہ اسے اُن کا پاک ذکر کرنے کی اجازت ہے
جس ناپاک دل میں خیالِ دنیا کی بھرمار ہو وہاں اُس ذات کو سوچنا جن کی بارگاہ میں طہارتیں نظافتیں نوکرانیاں ہیں بے باکی تو نہیں ؟
مگر میں نثار میں کیا میرے ماں باپ میری اولاد ان کی رہ گزر پر فدا وہ پھر بھی ہمیں یاد کرتے ہیں
ہماری فریاد پر کرم فرماتے ہیں
حسان الہند کہتے ہیں
جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا
یاد اس کی اپنی عادت کیجئے
ہم تو فریاد کریں گے جی بھر کے کریں گے کیونکہ
مانگیں گے مانگے جائیں گے مُنھ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ ’’لا‘‘ ہے نہ حاجت ’’اگر‘‘ کی ہے
اللهم صل وسلم وبارك على سيدنا و مولانا محمد كما تحب وترضى له
سیدمہتاب_عالم# ✍️
