تصوف_وصوفیاء 6
ابن عطاء اللہ السکندری نے آداب الطریق اور
امام قسطلانی نے المواھب اللدنیہ میں لکھا
کہ
ایک بادشاہ نے سیدی بایذید بِسطامی کے مَزار پرانواز پہ حاضری دی
پھر پوچھا یہاں کوئی ایسا آدمی ہے جس نے بایذید بسطامی کا دیدار کیا ہو
لوگوں نے ایک انتہائی بوڑھے شخص کی طرف اشارہ کیا کہ انہوں نے دیکھا ھے
بادشاہ نے پوچھا
آپ کو بایذید بسطامی کا کوئی فرمان یاد ہے؟
بذرگ نے کہا جی ہاں
ایک بار بایذید بسطامی نے فرمایا
من زارنی لا تحرقه النار
جس نے میری زیارت کی جہنم اسکو نہیں جلائے گی
بادشاہ نے کہا یہ کیسے ممکن ھے
ابو جہل نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا ھے لیکن پھر بھی جہنم میں جلے گا
بذرگ نے فرمایا
ابو جہل نے حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو نہیں دیکھا بلکہ ابو طالب کی پرورش میں رہنے والے در یتیم کو دیکھا
اگر وہ محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو محبت و ادب کی نظر سے دیکھتا تو یقینا جہنم سے محفوظ ہوجاتا
یہ اللہ والوں کی شان ہوا کرتی ھے کہ ان کو دیکھنے والا پھر محروم نہیں رہتا
جو دیکھ لے بدبختی سے نکل کر سعادت مند ہو جاتا ھے
وہ ایسے نفوسِ قدسیہ ہیں جو خود سعادت مند اور اپنی طرف ادب سے دیکھنے والے کو سعادت مند بنا دیتے ہیں
یہی وجہ ہے علماء کرام نے فرمایا
علماء کی محفل میں بیٹھو تو زبان سنبھال کر بیٹھو
اولیاء کرام کی محفل میں بیٹھو تو دل سنبھال کر بیٹھو
کیونکہ
احمد بن عاصم الانطاکی کا فرمان ہے
إذا جالستم أهل الصدق فجالسوهم بالصدق فإنهم جواسيس القلوب يدخلون في قلوبكم ويخرجون منها من حيث لا تُحسُّون
جب تم الله والوں کی مجلس میں بیٹھو تو سچے دل سے بیٹھو کیونکہ وہ دِلوں کے جاسوس ہوتے ہیں جو تمہارے دِلوں میں داخل ہوتے اور یوں نکل جاتے ہیں کہ تمہیں احساس تک نہیں ہوتا
{آداب الشافعی لابن ابی حاتم }
یعنی تمہارے دل میں جو خیالات آتے ہیں مثبت ہوں یا منفی وہ جان لیتے ہیں
منفی خیالات کی وجہ سے بندہ ولیَ کامل کے فیض سے محروم رہ جاتا ہے
جس کا دل جلوت و خلوت میں سنبھل گیا وہ کامیاب ہو جاتا ہے
اللہ تعالی ہمیں صالحین کا ادب کرنے والا رکھے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
