عشقِ_سیدِ_عالم 66
عثمانی دورِ سلطنت میں روضہ مبارک کے باہر چند کھجور کے درخت تھے اس جگہ کو باغِ فاطمہ کہا جاتا تھا
یہ کھجوریں اور ان کے پتے ترکی میں عثمانی سلاطین کو بھیجے جاتے تھے
ان پتوں سے ہاتھ والے پنکھے بنائے جاتے جنہیں عثمانی سلطان استعمال کرتے تھے اور برکت والی ہوا لیتے تھے
مختلف پنکھوں پر ان پنکھوں کی زبانی اشعار لکھے ہوئے ہیں
إني لمن نخل بقرب
المصطفى طه وياسين
میں اس کھجور کے درخت سے بنا ہوا ہوں جو محمد مصطفی طه و ياسين کے پڑوس میں موجود ہیں
بالقرب نلت الفخر حتى
قد صرت في يمنى السلاطين
ان کے قرب کے ساتھ میں نے فخر پایا حتی کہ میں سلاطین کے ہاتھ میں آ گیا
ایک پہ لکھا ہے
جُزت كل الشُرفا
بجوار المصطفى
میں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس کی برکت سے ہر شرف سے گزرا ہوں
صرت من فضلك ربي
في أيادي الخلفا
اپنے رب کے فضل سے میں خلفاء کے ہاتھوں میں آ گیا ہوں
ایک جگہ یہ لکھا
لي في جوار المصطفى
زمن وفضلي مستبين
میرا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں وقت گزرا ہے اور میرا فضل واضح ہے
وبجاهه قد صرت في
يمنى إمام المسلمين
اور حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے سے اب میں مسلمانوں کے امام کے ہاتھ میں ہوں
ایک پہ لکھا ہے
قد صرت للملك السعيد
سلطاننا عبـــــد المجيد
اب میں سعادت مند بادشاہ کا ہو گیا ہوں جو ہمارے سلطان عبد المجید ہیں
ہر چیز نسبتِ مدینہ پہ فخر کرتی ہے اور ہجرِ مدینہ پہ روتی ہے
ملا علی القاری نے شوافع سے نقل کیا
الكرهةُ نَقْلُ تُرَابِ الْحَرَمِ وَحَجَرِهِ إِلَى غَيْرِهِ وَلَوْ إِلَى حَرَمِ الْمَدِينَةِ كَمَا يُمْنَعُ نَقْلُ تُرَابِ حَرَمِ الْمَدِينَةِ وَحَجَرِهِ إِلَى غَيْرِهِ وَلَوْ إِلَى حَرَمِ مَكَّةَ، وَيُكْرَهُ نَقْلُ تُرَابِ الْحِلِّ إِلَيْهِ، قَالُوا وَالْفَرْقُ أَنَّ إِهَانَةَ الشَّرِيفِ أَقْبَحُ مِنْ رِفْعَةِ الْوَضِيعِ، وَأَمَّا نَقْلُ مَاءِ زَمْزَمَ لِلتَّبَرُّكِ بِهِ فَمَنْدُوبٌ اتِّفَاقًا
حرم پاک کی مٹی اور پتھر وغیرہ کا حرم سے نکالنا مکروہ ہے اگرچہ مدینہ پاک بھیجا جائے
ایسے ہی مدینہ پاک کی مٹی اور پتھر وغیرہ کا وہاں سے نکالنا مکروہ ہے خواہ مکہ پاک بھیجا جائے
اور حرمین شریفین کے علاؤہ کی مٹی حرمین شریفین بھیجنا بھی مکروہ ہے
کہتے ہیں فرق ہے جیسا کہ اھلِ عرب کہتے ہیں
إِهَانَة الشَّرِيفِ أَقْبَحُ مِنْ رِفْعَةِ الْوَضِيعِ
عزت دار کو ذلیل کرنا کسی گھٹیا کو عزت دینے سے زیادہ برا کام ہے
جہاں تک آبِ زم زم لے جانے کا تعلق ہے تو وہ بالاجماع مستحب ہے
بہر حال مدینہ پاک کی اشیاء ہجرِ مدینہ میں روتی ہیں
ایک شخص مدینہ پاک کی کنکریاں دوسرے ملک اپنے گھر لے گیا
کچھ عرصے بعد اس نے دیکھا وہ کنکریاں تر ہیں
اس نے کسی صاحبِ دل سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ کنکریاں ہجرِ مدینہ میں روتی ہیں ان کو واپس بھجوا دو
ہر ذی روح و غیر ذی العقل عشقِ مصطفیٰ کی لذت پاتا ہے
حسان الہند کہتے ہیں
نہ دلِ بشر ہی فِگار ہے کہ مَلک بھی اس کا شکار ہے
یہ جہاں کہ ہَژدَہ ہزار ہے جسے دیکھو اس کا ہزار ہے
ان کے عشق میں اونٹ روتا ہے
گدھا آہ و فغاں کرتا ہے
لکڑی تک روتی ہے
ان کی شانِ محبوبی کتنی نرالی ہے
سیدمہتاب_عالم# ✍️

