محب و محبوب کی رات

ذاتی_مطالعہ 148

ایک شخص امام جعفر الصادق کی بارگاہ میں حاضر ہوا
اور عرض گزار ہوا
معراج کے اوصاف بیان فرمائیں
امام جعفر الصادق نے فرمایا

كيف اصف لك مقاما لم يسمع فيه جبرائيل مع عظيم محله
میں تمہیں اس مقام کی صفت کیسے بیان کر سکتا ہوں جس کے بارے جبریل نے بھی اپنے عظیم مقام کے باجود سنا نہ ہو
{ عرائس البیان جلد 2 صفحہ 348 }
جب مُحب و محبوب لامکان میں ملاقات کر رہے تھے تب کیا ہوا کیا بات ہوئی کسے معلوم
حسان الہند کہتے ہیں
کعبہ و عرش میں کہرام ہے ناکامی کا
آہ کِس بزم میں ہے جلوئہ یکتائی دوست
جبرئیل امین بھی اپنی تمام تر طاقتوں کے باجود پیچھے رہ گئے
وہ بھی راز و نیاز کی باتوں نہیں جانتے
کیونکہ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس رفتار سے آگے بڑھے کہ ملائکہ کا سردار بھی کھڑا دیکھتا رہا
تھکے تھے رُوْحُ الاَمِیں کے بازُو چھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلو
رِکاب چھوٹی اُمید ٹوٹی نگاہِ حسرت کے وَلولے تھے
کہاں گئے کیسے گئے کسی کو معلوم نہ ہو سکا
مگر وہ پیارے اُس وقت بھی ہم امتیوں کو یاد کر رہے تھے
کیوں نہ قربان جائیں اُن صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ عموماً محبین کا وصل ہو تو محبت کی بات ہوتی آپس کی بات ہے مگر ہمارے کریم نے ہماری بات بھی کی تھی
اللهم صل وسلم وبارك على سيدنا و مولانا محمد كما تحب وترضى له
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top