اسلامی_طرزِتربیت 118
سیدی فضیل بن عیاض مشہور ولی ہیں وہ اپنے بیٹے علی بن فضیل کی تربیت کرتے کرتے تھک گئے مگر بیٹا باپ کی تربیت کا اثر قبول نہ کرتا
تو سیدی فضیل بن عیاض نے یہ دعاء مانگنا شروع کر دی
اللھم انی اجتھدت ان اؤدب علیا فلم اقدر علی تادیبہ فادبہ انت لی
اے اللہ میں نے علی کو ادب سکھانے میں انتہائی کوشش کر لی مگر میں ادب نہ سکھلا سکا تو ہی میرے لیئے اس کو ادب سکھلا دے
باپ کی بیٹے کے حق میں دعاء کی برکت سے علی نہ صرف با ادب ہوئے بلکہ بہت بڑے ولی بن گئے
سیدی عبد اللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ
خیر الناس الفضیل و خیر منہ ابنہ علی
لوگوں میں سب سے بہترین فضیل بن عیاض ہیں اور ان سے بھی بہتر ان کے بیٹے علی ہیں
علی بن فضیل کو یہ مقام و مرتبہ باپ کی دعاء کی وجہ سے نصیب ہوا
لوگوں میں غلط مشہور ہے کہ ماں کی دعاء زیادہ قبول ہوتی ہے
جبکہ حدیث پاک میں باپ کی دعاء رد نہیں ہوتی کا فرمایا
ابوداؤد شریف میں ہے
تین بندوں کی دعاء رد نہیں ہوتی
پہلا عادل حکمران
دوسرا مسافر
تیسرا باپ کی دعاء بچے کے حق میں
مگر اس معاشرے میں باپ کو کمائی کرنے والا گدھا سمجھ کر تمام بوجھ اس پر لاد دیا جاتا ہے
حتی کہ باپ اولاد کے لیئے لڑ جاتا ہے اور طرح طرح کی بیماریوں سے ہار جاتا ہے آخر میں اولاد سے بھی ہار جاتا ہے جب اولاد کہتی ہے اپ نے ہمارے لیئے کیا ہی کیا ہے ؟
اور تو اور بے چارے بزرگ باپ کو دعاء کے لیئے کہنا گوارا نہیں کیا جاتا
قرآن کریم میں جہاں بھی اولاد مانگنے کا ذکر ہے وہاں باپ کی دعاء ہی مذکور ہے مثلاً حضرت ابراھیم حضرت زکریا علی نبینا وعلیھم الصلوۃ والسلام کی دعائیں
باپ کی دعاء تیر بہدف ہے
ایک دعاء کے لیئے کہنا اور ایک دعاء بغیر کہے لینا ہے
باپ دعاء بغیر کہے بھی دیتا ہے مگر آپ کہ کر دعاء لیں گے تو وہ خوش بھی ہوں گے اور دعاء بھی کریں گے
والدین کو بھی چاہئے کہ دل کھول کر دعاء کریں اللہ ربّ العزت کے خزانے بھرے پڑے ہیں
آپ اللہ سے مانگیں کہ آپ بیٹا محدث بنے مجتہد بنے بہت بڑا ولی بنے وہ دینے والا قبول بھی فرماتا ہے
“باپ کا صرف ایک احسان ہوتا تو وہ بھی سب سے بڑھ کر دیا کہ اپنی اولاد جائز پیدا کی ہے”
باپ کے ناشکرے نہ بنیں کہیں کہ نہیں رہیں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
