اسلامی_طرزِتربیت 212
°°° ساداتِ کرام کے نسب پر حسد °°°
بصرہ شہر کے معززین باتیں کر رہے تھے تو ایک شخص کہنے لگا کہ لوگ تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو پھانسی پر حسد کرتے ہیں
حاضرین نے اس بات کا انکار کیا کہ بھلا پھانسی پر کون حسد کرے گا ؟
کچھ دِنوں بعد خلیفہ نے شہر کے معززین میں سے احنف و مالک بن مشمع و قیس بن ہیثم اور حمدان جو کہ حجام (بال کاٹنے والا نائی) تھا ان سب کو ایک ساتھ پھانسی کا حکم دیا
لوگ کہنے لگے
یہ گھٹیا ان عزت داروں کے ساتھ پھانسی پر جائے گا ؟
تو اس معزز شخص نے کہا
الم اقل لکم ان الناس یحسدون علی الصلب
کیا میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ لوگ تو پھانسی پر بھی حسد کرتے ہیں
❗ الشکوی و العتاب لثعالبی ❗
حاسد ناپاکیوں میں سے سب سے زیادہ ناپاکی سے پیدا کیا گیا شیطان ہوتا ہے کیونکہ وہ تقسیمِ الٰہی پر معترض ہوتا ہے
الله وحده لا شريك نے اپنے خزانوں میں سے کسی کو علم و منصب مال و دولت حسن و آواز شرف و فضیلت بخشی ہے تو تم کیوں دل جلا رہے ہو ؟
ذرا غور کریں کہ آپ بھی تو دو ناپاک قطروں سے بنے دو بار دو شرمگاہوں سے نکلے ہیں پھر ایک جیتے جاگتے انسان بن گئے ہیں اس کے باوجود خود کو مقام و مرتبے کا اھل سمجھنا اور دوسرے کو نام اھل سمجھنا دینے والے پر اعتراض نہیں تو کیا ہے ؟
آپ کا پڑوسی آپ کا رشتے دار آپ کے ساتھ کام کرنے والا خدا تبارک و تعالیٰ کی عطاء کردہ صلاحتیوں سے آپ سے آگے بڑھ گیا تو کیا ہوا ؟
یا وہ تو اھل نہیں تھا مگر الله رب العزت نے محض اپنے فضل و کرم سے اسے عطاء فرما دیا تو آپ کو کیا مسئلہ ہے ؟
اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ
یا وہ لوگوں سے اس بات پر حسد کرتے ہیں جو الله نے انہیں اپنے فضل سے عطاء فرمائی ہے
حسد کی نشانی یہ بھی ہے کہ جل بھن کر آگے والے برائی بیان کرنا شروع کر دینا اور جب کہا جائے تو کہتے ہیں مجھے حسد نہیں ہے میں تو سچائی بیان کر رہا ہوں
انسان کے پاس دو چیزیں ہوتی ہیں
وھبی جو انسان کی کوشش کے بغیر اسے ملتی ہے مثلاً حسب و نسب و حسن و جمال
کسبی جو اس کی محنت سے ملتی ہے مثلاً کاروبار میں کامیابی
غور کریں تو وھبی پر حسد کرنا شیطانی صفت ہے شیطان ہی پہلا حاسد تھا
جسے رب العالمین نے دیا اس پر سوال یا اس پر چیخنا و واویلا کرنا شیطانیت ہے
کسبی پر شور مچانا اپنی ہزیمت و شکست کا اقرار ہے کیونکہ آپ خود قابل نہیں ہیں اور اپنی ناکامی کا ملبہ کامیاب شخص پر ڈال رہے ہیں
حسد کرنے والا عموماً کہتا ہے
مجھے حسد نہیں بس فلاں خوشامد کر کے اس مقام تک پہنچا ہے تو یہ سوچ دو کبیرہ گناہوں سے لتھڑی ہے ایک تو بدگمانی دوسری مسلمان پر تہمت و الزام لگانا
بتائیں حاسد میں کیا خیر باقی رہی ؟
حسد خود کبیرہ گناہ ہے
بد گمانی بھی کبیرہ گناہ ہے
تہمت بھی کبیرہ گناہ
اگر اس نے واقعی خوشامدی کی ہے تو حاسد کا ایسے کہنا غیبت ہے یہ بھی کبیرہ گناہ ہے
پھر حاسد اس بندے کی تذلیل و تحقیر سے باز نہیں آتا یہ پانچواں گناہ ہے
پھر کبھی موقع آئے تو اس کی حق تلفی بھی کر دیتا ہے یہ چھٹا گناہ ہے
پھر حاسد کے دل میں اس کے لیئے بغض و کینہ آتا ہے یہ ساتواں گناہ ہے
حسد چھوڑ دیں سات کبیرہ گناہوں سے بچت ہوگی
جیسے اوپر گزرا کہ لوگ پھانسی پر بھی حسد کرتے ہیں تو یہ سوچ کیوں ہے ؟
ہمارے حسب و نسب پر حسد کرتے ہیں جبکہ یہ ہمارے تمہارے بس میں نہیں یہ وھبی شے ہے
نسب پر حسد کی نشانی یہ ہے کہ تم اصل سید نہیں ہو
سادات بخشے نہیں جائیں گے
سادات نماز پڑھتے ہیں ؟
سیادت برہمنیت ہے
پیر خانے کھا رہے رہیں کام نہیں کر رہے جم کے بیٹھے ہیں کاروبار بنایا ہوا ہے اور جب سادات کا فضل و شرف بیان کیا جائے تو حاسد کو مروڑ اٹھتے ہیں وہ علماء کا ذکر شروع کر دیتا ہے کہ ان کی تعظیم بھی واجب ہے وغیرہ وغیرہ یہ سب حسد کی نشانیاں ہیں
مذکورہ آیت کے متعلق امام جعفر الصادق فرماتے ہیں یہ ہم اھلِ بیت کے بارے ہے کہ لوگ ہمارے نسب پر حسد کرتے ہیں
جسے الله وحده لا شريك نے شرفِ نسبتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے نوازا
جس پر ہر نماز میں درود بھیجتے ہو
جس کی محبت و مودت کا تقاضا امت سے کیا گیا اسی سے حسد کرنا نفاق نہیں تو کیا ہے ؟
عام مسلمان سے حسد سات کبیرہ گناہ کرواتا ہے تو سادات کرام و علماءِ اسلام سے حسد ایمان کے لیئے کتنا نقصان دہ ہے یہ سوچ بھی نہیں سکتے
کسی بھی مسلمان کو دیکھیں جو نعمت میں ہے تو اس نعمت کی سلامتی کی دعاء کریں ان شاءاللہ حسد قریب بھی نہیں آئے گا
✍️ #سیدمہتابعالم
