تاریخِ_اسلامی 93
الحاجب منصور اسپین میں عظیم الشان بادشاہ تھا
اس نے زندگی بھر 53 بار جہاد میں خود شرکت کی
سال میں دو بار اسلامی لشکر جہاد پر روانہ کرتا تھا ایک سردی میں دوسرا گرمی میں
یہ علم دوست بادشاہ تھا
امام ذھبی فرماتے ہیں
اس نے اس کثرت سے جہاد کیا کہ اندلس کو مالِ غنیمت سے بھر دیا
حتى بيعت بنت عظيم من عظماء الروم ذات حسن وجمال بعشرين دينارًا
حتی کہ یورپ کے حاکموں میں سے ایک حاکم کی حسین و جمیل بیٹی بیس دینار کی فروخت کی گئی
❗ سیر اعلام النبلاء ❗
یعنی اس کثرت سے کفار کے ساتھ جہاد کیا اور ان کو غلام بنایا
تبھی اس وقت عَلَمِ اسلام سب سے بلند تھا
بادشاہ جو ایسا تھا جو سال میں دو بار جہاد پر جاتا تھا جبکہ اب کے نکمے ٹھنڈے علاقوں کی طرف نکل جاتے ہیں
الحاجب منصور جب کسی جگہ لشکر لے کر جاتا تھا تو وہاں بلند جگہ پر اپنا جھنڈا نصب کروا دیتا تھا تاکہ کفار کو پتا ہو کہ یہاں اسلام کے شیر موجود ہیں اور واپسی پر وہ جھنڈا اتار لیا جاتا تھا
ایک بار واپسی پر لشکرِ اسلام وہ جھنڈا اتارنا بھول گیا تو الحاجب منصور کے خوف سے کئی مہینوں تک کفار اس علاقے کے قریب نہیں پھٹک سکے
سطوت و عزت اسے کہتے ہیں دنیا میں طاقت کا اصول چلتا ہے
اور اسلام کے بارے تو واضح فرمایا جب تک تلوار اٹھائے رکھیں گے جہاد کا جھنڈا تھامے رہیں گے تب تک اھلِ اسلام معزز رہیں گے اور جب تلوار چھوڑ دیں گے تو ذلیل و رسوا ہو جائیں گے
حکمران ہڈ حرام و سست ہو گئے ہیں عوام ایسے حکمرانوں کے لیئے لڑتی مرتی اور ذلیل ہوتی پھرتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
