طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 146
پہلے زمانے میں ترغیب و ترھیب کا فقط ایک جملہ دل پر اثر کرتا تھا
زندگیاں بدل جاتی تھیں مگر اب ایسا نہیں ہوتا
کیونکہ یہاں لوگ شخصیت پسندی کی حدوں کو چھو رہے ہیں
من پسند شخصیت نے جو کہ دیا اس کے خلاف قرآن کریم کی آیت یا حدیثِ مبارکہ بھی پیش کر دی جائے تب بھی کہا جاتا ہے کہ اس آیت کو میری شخصیت اچھی طرح سمجھتی ہے
کیا اس کی نظر سے نہیں گزری ؟
اس حدیث کی تاویل ہوگی وغیرہ وغیرہ
الغرض
خود بدلتے نہیں قرآن بدل دیتے ہیں
اِن کے من چاہے شخص کے سوا دنیا کا کوئی عالم ہزار دلائل دے دے یہ اندھ بھگت ٹس سے مس نہیں ہوتے
اگر استاذ , مرشد پر آنکھیں بند کرنے والا قانون ہوتا تو ہدایہ و قدوری کی ہر سطر میں امام اعظم سے ان کے شاگرد امام ابو یوسف اور امام محمد اختلاف نہ کرتے
ضروریاتِ دین و ضروریاتِ مذھبِ اھلِ سنت میں اختلاف جائز نہیں اور اس کے سوا میں آنکھیں بند کرنا صریح احادیث اور مزاجِ اسلام و شریعت و طریقت کے ظاہر و باطن کے خلاف ہے
ایک تعجب کی بات ہے کہ صوفیاءِ کرام کا بھی روحانی معاملات کی تعبیر و تشریح میں اختلاف ہے
مگر یہاں اختلاف کرنے والے پر سب سے پہلا فتویٰ تضلیل کا دیا جاتا ہے بلکہ اب تضلیل کا زمانہ گیا جب تک تکفیر نہ کی جائے سینے ٹھنڈے نہیں ہوتے
ایک مزاج بن گیا ہے کہ یا تو ختمِ نبوت پر حملہ ہو رہا ہوتا ہے یا تفضیل پر حملہ ہو رہا ہے اس کے سوا محققین کو کوئی شے نظر نہیں آتی
چند سال پہلے حضور سیدِ عالم صلی الله علیہ وسلم کی چالیس سال قبل نبوت پر ہنگامہ کھڑا ہوا تھا تو ایک بہت بڑے محقق فرما رہے تھے کہ اس سے ختمِ نبوت پر زد پڑتی ہے
انا لله وانا اليه راجعون
ایک نام نہاد محقق فرما رہے تھے کہ سیدہ فاطمہ کو سیدہ عائشہ سے افضل کہنے سے رافضیت کی بو آتی ہے
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجامِ گلستاں کیا ہوگا ؟
ان کی آنکھیں اتنی تیز اور نتھنے اتنے حساس ہو چکے ہیں کہ مابین اھلِ سنت اختلافی مسائل دیکھ کر ختمِ نبوت پر زد بھی دیکھ لیتے ہیں اور رافضیت کی بو بھی آ جاتی ہے
ہمارے ہاں ناصبیت کا پھیلایا ہوا ایک گند یہ بھی ہے کہ جس بندے کے نام کے ساتھ سید لکھا ہو آ جائے بس اس میں ان کو ہر وقت تفضیلیت و رافضیت نظر آتی ہے
خود سنیت کی کھال میں ناصبیت کے بھیڑیئے ایسے ہیں کہ عرس و ایام پر لمبی لمبی تحاریر لکھیں گے مگر کبھی اھلِ بیت کے دفاع میں ایک سطر نہیں لکھ سکتے نہ آپ کو نظر آئے گی
آپ آج سے ایک کام کریں
جو متمحقین رافضیت کا رد کرتے ہیں ان کو دیکھیں کہ آخری بار دفاعِ اھلِ بیت انہوں نے کب کیا تھا ؟
اب کوئی یہ نہ کہے کہ یہاں گستاخِ اھلِ بیت کوئی نہیں ہے
بے شمار پیجز بہت سے گروپس اور ایک دو تو مشہور ہیں جو کام ہی شانِ اھلِ بیت گھٹانے کا کرتے ہیں
جو کمبخت اھلِ بیت کی شان کو عام کر کے پیش کرے وہ دفاع خاک کرے گا ؟
لاہور میں بیٹھا ایک بدبخت یزید کو مظلوم بے گناہ ثابت کرتا ہے تو یہ ٹھکیدارانِ سنیت مر گئے دفن ہو گئے ہیں ؟
مجال ہے فلاں محقق و ڈھمکاں شیخ الحدیث کی زبان و قلم سے ایک بار بھی مؤقفِ اھلِ سنت نکلا ہو
اب اسے ناصبیت نہ کہیں تو کیا کہیں ؟
کہ جہاں کچھ نہیں ہوتا وہاں ان کو ختمِ نبوت پر زد بھی پڑتی نظر آتی ہے اور رافضیت کی بو بھی آتی ہے اور جہاں کھلم کھلا عقیدہَ اھلِ سنت سے بغاوت کی جا رہی ہے وہاں مثلِ مردار ہیں
اے نوجوانِ اھلِ سنت خدا کی قسم جو آج امام حسین کو مظلوم نہیں ثابت کر رہے یزید کو ظالم نہیں ثابت کر رہے اگر اُس وقت ہوتے تو یہ لشکرِ یذید میں ہوتے اور تو بھی اِن کی اتباع میں لشکرِ یذید میں ہوتا تو سمجھ جا باز آ جا اور ایسوں سے دور ہو جا ورنہ نانائے حسنین کریمین صلی الله علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم رہے گا
جو لوگ عقیدہ اھل سنت سے اتنی کھلی بغاوت پر خاموش ہیں وہ سنی ہیں ؟
وہ اُس وقت امام حسین کا ساتھ دیتے ؟
وہ صرف فتنہ پرور ہیں جو اھلِ سنت کو تقسیم کر رہے ہیں
اِن کے نزدیک دفاعِ صحابہ کے نام پر اھلِ بیت کی شان گھٹانا اور عامیانہ کر کے پیش کرنا ہی سنیت ہے
اِن کی ایک علامت ہر شرف و فضیلت میں صحابہ و اھلِ بیت کو مقابلے میں کھڑا کرنا ہے
تاکہ صدیوں سے مسلمانوں کے دلوں میں محبتِ اھلِ بیت ہے وہ کم سے کم کی جائے
اِن میں سے کچھ ایسے بغضِ اھلِ بیت میں گرے کہ امام مہدی کے وجود کا ہی انکار کرتے ہیں اور کچھ اس پر بضد ہو جاتے ہیں کہ مہدی آل رسول سے نہیں ہوں گے
یقیناً جو آج امام مہدی کا انکار کرتے ہیں ان کی اولاد دجال کے ساتھ ہوگی
وہ عامۃ المسلمین کو امام مہدی کے متعلق وسوسوں میں ڈالیں گے
آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی اولاد امام مہدی کے خلاف ہو کے دجال کے لشکر میں ہو ؟
سنی وہی ہے جو ذکرِ اھلِ بیت پر با ادب ہو جائے
سنی وہی ہے جو ذکرِ صحابہ پر احترام بجا لائے
تقابل کرنے والا کمبخت ناصبی ہے
اِن کا یہ بہانہ کہ ہم رافضیوں کا رد کر رہے ہیں تو اس وجہ سے ان کو الزامی جواب دیتے ہیں یہ وہ محض دھوکے ہیں
کیونکہ ان سے ہزار گنا زیادہ دین کا درد رکھنے والا سنیت کا کام کرنے والے علماء گزرے ہیں کسی نے ایسا بیہودہ انداز نہیں اپنایا
بلکہ یہ ہمارے عظیم الشان امام ہیں اعلی حضرت عظیم البرکت امام اھلِ سنت تفضیلِ شیخین پر مطلع القمرین کتاب لکھتے ہیں مگر تعجب کی بات ہے پہلے مولا علی کرم الله وجہہ الکریم کے خصائص و فضائل و مناقب بیان کرتے ہیں
پھر پوری کتاب شیخین کی عظمت و فضیلت پر لکھتے ہیں مگر کہیں تقابل کا وھم بھی نہیں ہوتا
اصولِ تصنیف کے مطابق دیکھا جائے تو مطلع القمرین میں خصائص مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نہیں بیان ہونے چاہیے مگر ہمارے امام نے وہاں یہی بیان کیا کہ جو امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو عامیانہ سمجھتے ہیں پہلے ان کا رد کیا جائے
اے نوجوانِ اھلِ سنت
اپنے امام کی پیروی کر اور بڑے بڑے القاب صوفیانہ حلیہ رکھنے والے شیطانوں سے بچ ورنہ لشکرِ یذید میں اٹھایا جائے گا اور تیری اولاد دجال کی ساتھی ہوگی
✍️ #سیدمہتاب_عالم
