لذتِ علم کے کیا کہنے

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 137

یہ اشعار عرب کے محدث کبیر العلاَّمة محمد عبد الحي الكتَّاني المغربي رحمه الله کے دستِ مبارک سے لکھے ہوئے ہیں

ألا إنّ خير المستلذّ ثلاثة
و ليس لها في الطيّبات مقارب
توجہ سے سنو تین چیزیں لذت بھری ہیں اور ان جیسی لذت کے قریب کوئی اور لذت ہے ہی نہیں

قراءة كتب تستفيد علومها
و خيل و بيض ناعمات كواعب
کتابوں کو پڑھنا جن کے علوم سے تم فائدہ حاصل کرو اور گھوڑے اور سفید رنگ نرم و نازک نسوانی حسن سے بھرپور خواتین
دو چیزوں کی لذت مسلم و فطری ہے کتب اور عورت کی گھڑ سواری کی جگہ کسی کو اور بھی پسند آ سکتی ہے
اب یہاں وہ جن کے تقوے کو ہیضہ ہوا ہے نتھنے پھیلا کر بازو چڑھا کر آنکھیں گھما کر دوڑے چلے آئیں گے کہ یہ بات حیاء کے خلاف ہے یہ وہ فلاں ڈھمکاں وغیرہ وغیرہ
تو جنابِ والا
علماء انسان ہیں اور انسانی فطرت کے مطابق کلام کرتے ہیں
حدیثِ مبارکہ میں ہے
حُبِّبَ إليَّ من دُنْياكمُ النِّساءُ والطِّيبُ وجُعِلَت قُرَّةُ عَيني في الصَّلاةِ
تمہاری دنیا میں سے میرے دل میں عورتوں کی محبت ڈالی گئی خوشبو کی محبت ڈالی گئی اور نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے
❗ سنن نسائی ❗
اس کا مطلب یہ نہیں کہ نامحرموں کی محبت بلکہ مراد ہے ازواجِ مطہرات سے محبت کہ یہ ازواج سے اخلاص و وفاء کی نشانی ہے
لوگوں نے جہاں حیاء کرنی ہوتی ہے وہاں نہیں کرتے اور جہاں گنجائش ہو وہاں لٹھ لیئے دوڑے آتے ہیں
آپ کی ماں بہن یا بیٹی پردہ نہیں کرتی وہاں حیاء کریں
آپ کے گھر میں آپ کے نامحرم رشتے آتے ہیں وہاں حیاء کریں
آپ کے والد بھائی چچا ماموں داڑھی منڈواتے ہیں وہاں الله رب العزت سے حیاء کریں
شریعت کے حرام کردہ کاموں پر حیاء کریں نہ کہ فطری و علمی باتوں پر تیوریاں چڑھائیں بھاڑ میں جائیں

بہر حال لذت علم اعلی درجے کی لذت ہے
عربیت کے مشہور امام جار الله الزمخشری کہتے ہیں

سهري لتنقيح العلوم ألذَّ لي
من وصل غانية وطيب عناق
تحصیلِ علم کے لیئے میرا جاگنا میرے لیئے فطری حسینہ اور اس کے گلے لگنے سے زیادہ لذید ہے

وصرير أقلامى على صفحاتها
أبهى من الدوكاء والعشاق

کتب کے صفحات پر میرے قلموں کی آواز جماع اور عشاق کی آواز سے زیادہ لطیف ہے

وألذ من نقر الفتاة لدفها
نقري لأ لقي الرمل عن أوراقي
میرے نذدیک حسین عورت کے اپنے دف پر ہلکی سی ضرب کی آواز سے زیادہ لذت والی وہ آواز ہے جو میری کتابوں سے مٹی جھاڑنے سے آتی ہے

وتمايلي طربا لحل عويصة
أشهى وأحسن من مدام الساقي
کسی مسئلے کے حل ہو جانے پر میرا جھومنا عادی شرابی کے جھومنے سے زیادہ اچھا ہے
عربی مقولہ ہے
لذة الأفكار خير من لذة الابكار
غور و فکر کی لذت کنواری لڑکیوں کی لذت سے زیادہ ہے
قصہ مختصر کہ نکتہ چیں اپنی تنگ ذہنی کی وجہ سے اور علماء پر اعتراض کی نحوست کے سبب علم سے محروم رہ جاتے ہیں
کسی کو علم والوں کی شاعری پر اعتراض ہے تو کسی کو انسانی نفسیات کے مطابق محبت و عشق پر کلام کرنے پر اعتراض ہوتا ہے
ایسوں کے لیئے ہی کہا گیا ہے آم کھائیں پیڑ مت گنیں
آپ علم حاصل کریں کیا بیان کرنا کیا نہیں وہ علم والوں پر چھوڑ دیں ورنہ علم کی روح سے محروم رہ جائیں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top