فراست کی اقسام کتنی ہیں

تصوف_وصوفیاء2

_فراست کیا ھے

سامنے والے کی ظاہری شکل سے اس کے مزاج اور کردار کو جاننے کا نام فراست کہلاتا ہے

یہ ایک قدیم عربی علم ہے
اس کی ایک شاخ علم قیافہ ہے

فقہاء کرام فتاویٰ نویسی سے پہلے اس کا مطالعہ شرعی علوم کی حدود میں رہ کر کیا کرتے تھے

کہا جاتا ہے کہ امام شافعی نے یمن میں دو سال تک علم فراست پڑھا تھا

ایک بار امام محمد اور امام شافعی مسجد حرام میں تشریف فرما تھے ایک شخص داخل ہوا
امام محمد نے فرمایا یہ بندہ بڑھئی یعنی ترکھان ہے امام شافعی نے کہا مجھے لگتا ہے یہ لوہار ہے
جب اسکو بلا کر پوچھا گیا تو کہنے لگا پہلے لوہار تھا اب بڑھئی ہوں
سب سے مشہور عربی تصانیف میں امام رازی کی کتاب الفراسہ بہت لاجواب ہے

جس میں امام رازی نے فرمایا کہ
علمِ فراست کی دو قسمیں ہیں
ایک یہ کہ بغیر ظاہری حالت کو دیکھے دل میں خیال آئے کہ یہ انسان ایسا ایسا ہے اس کے اخلاق و احوال اس قسم کے ہیں
دوسری قسم یہ کہ ظاہری حالت کو دیکھ کر انسان کے عادات و اطوار کے بارے بتا دینا

اور ابن القیم کی کتاب الفراسہ بھی بہترین ہے

بہت سی قدیم ثقافتیں علم فراست کو پڑھتی رہیں مگر عربوں میں سب سے منفرد اور اعلی تعلیمات تھیں

ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں فراست کی تین قسمیں بیان کی ہیں
پہلی فراست وھبیہ یعنی جو محض اللہ کی عطاء سے ہو اس میں کوشش کا عمل دخل کچھ نہ ہو

دوسری فراست مومنانہ وہ جو بندہ مومن کو عبادات کی کثرت سے عطاء کی جاتی ہے جس کے بارے حدیث پاک میں آیا ہے
اتقوا فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور اللہ
کہ مومن کی فراست سے بچو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے
حضرت عثمان غنی کا منبر پر کھڑے ہو کر ایک صاحب کو بغیر نام لیئے کہنا کہ لوگ یہاں آتے ہیں کہ ان کی آنکھیں زنا سے پُر ہوتی ہیں فراست مومنانہ ہے
تیسری قسم فراست ریاضیہ ہے یعنی وہ جو محنت شاقہ اور کثیر جد جہد سے حاصل ہوتی ہے اور یہ قسم غیر مسلم کو بھی شدید محنت کرنے سے مل جاتی ہے یہی وجہ کہ غیر مسلم طبیب پیشاب کا رنگ دیکھ کر بلکہ مریض کا کپڑا دیکھ کر بیماری کا بتا دیتے تھے
حضرت سری سقطی کا پیشاب دیکھ کر ایک مجوسی طبیب کہنے لگا یہ ایسے شخص کا پیشاب ہے جس کا جگر خوفِ خدا سے پارہ پارہ ہوچکا ہے
یہ فراست ریاضیہ ھے
فراست کی ایک قسم علم الاعضاء بھی ہے
اس میں اس علم کا ماہر کسی انسان کے ظاہری اعضاء دیکھ کر پوشیدہ اعضاء کی ساخت کے بارے بیان کر دیتا ہے
ظاہری اعضاء دیکھ کر اخلاق و عادات بیان کر دیتا ہے
جوگی سادھو اور سنیاسی وغیرہ اسی فن میں مہارت حاصل کر کے عوام کو حیران و پریشان کر دیتے ہیں
کچھ لوگوں کا قوت مشاہدہ بہت لاجواب ہوتا ہے جہاں سے ایک بار گزر جاتے ہیں وہاں کی تمام اشیاء انکی ترتیب رنگ وغیرہ کو بالکل درست بیان کر دیتے ہیں
جبکہ وہاں رہنے والے اتنا صاف بیان نہیں کر سکتے

یہ فراست کی بنیاد ہوتی ہے اگر ایسے لوگ محنت کریں تو کمال کی فراست حاصل کر سکتے ہیں
آپ غور کریں آپ میں یہ خوبی کتنی ہے؟

اللہ رب العزت ہمیں مومنانہ فراست عطاء فرمائے

تحریر سے نام حذف کرنا جرم ھے

✍️ #سیدمہتاب_عالم

1 thought on “فراست کی اقسام کتنی ہیں”

  1. Ayesha Attariya

    کمال است ✨🤌🏻
    ماشاءاللہ عزوجل آپکی یہ کاوش واقعی قابلِ قدر ہے ، دل خوش ہوگیا اللہ پاک ہمیں اس سے فایدہ اٹھانے والا بنائے اللہ پاک آپ کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے آپکی اس کاوش کو قبول فرمائے آپ کے علم و عمل میں مزید برکتیں عطا فرمائے

Comments are closed.

Scroll to Top