عورت کی قوت

کامیاب_خواتین 53

ایک دانا نے کہا
إن الرجل حين يتألم يكره بعكس المرأة التي حين تتألم تزداد عاطفةً و حباً
مرد کو تکلیف پہنچے تو اس کی کراہت بڑھتی ہے جبکہ عورت اس کے خلاف طبعیت رکھتی ہے کہ جب عورت کو تکلیف پہنچے تو اس کی محبت بڑھتی ہے
یہ حکمت تھی کہ سیدنا آدم علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کی پسلی سے بحالتِ نیند اماں حواء کو پیدا کیا گیا
اگر بیداری میں یہ ہوتا تو حضرت آدم اماں حواء کو ناپسند کرتے
مگر یہی عورت بیداری میں بچہ جننے کی تکالیف سے گزرتی ہے اسی وجہ سے بچے سے جیسی محبت ماں کرتی ہے کوئی اور نہیں کر سکتا
کیونکہ عورت جس کی وجہ سے تکلیف و اذیت سے گزرتی ہے اس سے بہت محبت کرتی ہے
یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ قدرتی نظام ہے عورت اسی تعلق کی تکلیف خندہ پیشانی سے سہتی ہے جو اسے محبوب ہو جبکہ مرد تکلیف دہ شخص کو لمحوں میں زندگی سے باہر نکال دیتا ہے

عورت شوہر کے مظالم سہتی جاتی ہے محبت کرتی جاتی ہے
یہی مکمل و کامل عورت کی نشانی ہے
اسی وجہ سے بڑی بوڑھیاں کہا کرتی تھیں کہ شوہر کے گھر سے بیوی ہی لاش ہی نکلے گی یعنی کسی صورت گھر چھوڑنے کا تصور نہیں تھا
مردانہ طرز رکھنے والی عورتوں کے بہکاوے میں آ کے آج کی خواتین بھی اپنی فطرت سے دور ہوتی جا رہی ہیں
ہر اس مردانہ عورت سے دور رہیں جو مردوں سے متنفر کرے

عورت جب تک عورتوں والی طبیعت و فطرت کے مطابق چلے گی سکھی رہے گی
جب طبعیت سے ہٹے گی غم کا ذرہ پہاڑ محسوس کرے گی
کیونکہ عورت میں غم سہنے اور اسے پیار میں بدلنے کی قوت ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top