کامیاب_خواتین 6
عورت شادی کر کے خاوند کے گھر جاتی ھے
وہ گھر شوہر کی ملکیت میں ہوتا ھے
لیکن اللہ تعالی نے قرآن کریم میں ایک جگہ سے علاوہ ہر جگہ خاوند کے گھر کو عورت کا گھر قرار دیا ھے
تاکہ خاتون ملکہ بن کر رہے
اللہ تعالی فرماتا ھے
لا تخرجوھن من بیوتھن
کہ تم عورتوں کو ان کے گھروں سے مت نکالو
حالانکہ گھر مرد کا ہوتا ھے
دوسری جگہ فرمایا
وقرن فی بیوتکن
اے عورتو اپنے گھروں میں ٹھری رہو
حالانکہ گھر کا مالک مرد ہی ہوتا ھے یہاں بھی خواتین کو مالک قرار دیا
تیسری جگہ فرمایا
واذکرن ما یتلی فی بیوتکن
اور یاد کرو جو تمہارے گھروں میں تلاوت کیا جاتا ھے
یہاں بھی گھر کی نسبت خواتین کی طرف کی گئی ھے
صرف ایک جگہ عورتوں کی طرف گھر کی نسبت نہیں کی
اور وہ وہاں کہ جب عورت بدکاری کرے
فرمایا
فامسکوھن فی البیوت
کہ ان کو گھروں میں روکے رکھو
یہاں گھر کی نسبت عورت کی طرف نہیں کی گئی
اللہ جل جلالہ نے خواتین کو گھر کی مالکہ و ملکہ بنایا ھے
اور جو مرد اس ملکہ کو جوتی سمجھتے ہیں وہ خود جوتے کے قابل ہوتے ہیں
ایک بذرگ فرماتے ہیں کہ
خواتین امانتیں ہوتیں ہیں انکو گھٹیا وہی سمجھتا ھے جو رذیل و ذلیل عورت کے پیٹ سے پیدا ہوتا ھے
جس ملکہ کو رب نے عزت دی تم بھی اسکو عزت دو
آج شیطانی چالوں میں پھنس کر خواتین مَردوں کی برابری کرتی ہیں اور حقوق مانگتی ہیں
بھلا کونسا حق رہ گیا جو اسلام نے نہیں دیا ؟
آپ کی روح کا لحاظ کیا آپ کے آرام کا لحاظ کیا حتی کہ آپ کو گھر کی مالکہ بنا دیا باپ کی وراثت کا حق دیا شوہر کی وراثت کا حق دیا
اب مزید کیا رہ گیا ہے ؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
