علماء کی صلاحیتوں کو کیسے مارا جاتا ہے

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 70

کتنی تلخ کتنی صاف حقیقت ہے
اذا قیدت الصلاحیات فلا قیمة للمهارات
جب صلاحیتوں کو باندھ دیا جائے تو مہارتوں کی قیمت ذرہ بھی نہیں رہتی

ہنر مند کی صلاحیت بندہ خود باندھتا ہے یا دوسرے لوگ باندھتے ہیں
اگر آپ خود اپنے سامنے بند ہیں تو خود کا بند خود توڑیں
مثلاً احساس کمتری کے شکار ہیں یا خود اعتمادی کا فقدان ہے
ہر بندے میں خاص صلاحیت ہوتی ہے اسے تلاش کریں اور اس میں مہارت حاصل کریں
جب آپ کسی کام میں ماہر ہو جائیں گے تو دور و نزدیک آپ کا شہرہ ہوگا
مگر جہال و متعصب لوگوں سے دور رہیں وہ آپ کی صلاحیتوں کا اول تو انکار دیریں گے اگر مان لیں تو راہ میں کانٹے بچھائیں گے
اور عموماً آج کل یہی مسئلہ ہے اسی وجہ اسلام و اھلِ اسلام پریشان ہیں
حدیث شریف میں قیامت کی علامات کے بارے آیا
إذا أسندَ الأمْرُ إلى غير أهله فانتظر السَّاعة
جب منصب نا اھل کو سونپا جائے تو قیامت کا انتظار کرو
❗بخاری شریف ❗
یعنی وہ دور قیامت کے قریب کا ہوگا
کیونکہ نا اھل کو منصب مل جائے تو فتنہ و فساد برپا کر دیتا ہے اور ماتحتوں سے ذاتی دشمنی و عناد پال لیتا ہے
من پسند کے بندے بٹھاتا ہے اس سے خواہ نقصان ہو تباہی ہو اسے اس کی پرواہ نہیں ہوتی

تعجب کی بات ہے یہ کام علماء کے ساتھ بھی کثرت سے ہوتا ہے
اسی وجہ سے حدیث شریف میں آیا
ارحموا عزيز قوم ذل وغني افتقر وعالم ضاع بين الجهال
اس عزت دار پر رحم کرو جو ذلیل ہو جائے
اس مالدار پر رحم کرو جو فقیر ہو جائے
اور اس عالم پر رحم کرو جو جاہلوں کے بیچ ضائع ہو جائے
❗کشف الخفاء ❗
یعنی وہ عالم جسے جاہل ہٹ دھرمی و عناد و ذاتی دشمنی میں ضائع کر دیں
یا وہ عالم جو ناقدرے لوگوں کا ماتحت ہو کے علم پھیلانے سے محروم ہو
بہتیرے علماء کو ذمہ داران نے حرج میں ڈالا بہتوں کو مناصب سے ہٹایا بہت سوں کو اجارہ سے روکا
یہ وہی بات ہے کہ نا اھل منصب پر بیٹھ گیا اور بندر بانٹ کرنے لگا
علماء کی پردہ پوشی کی بجائے عیب جوئی کرنے لگے
جبکہ حکمِ حدیث ہے
أقيلوا ذوي الهيئةِ زلَّاتِهِم
عزت داروں کی کوتاہیوں سے درگزر کرو
❗مسند احمد ❗
علماء سے بڑھ کر کون معزز؟
عالم کو آپ ادارے کا چندہ جمع کرنے پر لگا دیں گے
علماء کو مدارس کے کھانے پینے کے اخراجات پورے کرنے پر لگا دیں گے
علماء کو ٹونٹی نل ٹھیک کروانے صفائی کی ذمہ داری پر لگا دیں گے
تو وہ عام آدمی بن جائیں گے علماء نہیں بنیں گے

یاد رکھیں بادشاہوں سے سپاہی والے کام نہیں لیئے جاتے

عقل مند کے لیئے ایک مثال کافی ہے
لکل فن رجال
ہر فن کے ماہر الگ الگ ہوتے ہیں
حدیث شریف میں ہے
انزلوالناس منازلھم
لوگوں سے ان کے مراتب کے مطابق پیش آؤ

❗ابوداؤد شریف ❗
مراتب کا لحاظ کرنا شریعت مطہرہ کے بنیادی قواعد میں سے ایک قاعدہ ہے
جب دین دار طبقہ مراتبِ علماء کا لحاظ نہیں کرتا پھر کسی اور سے شکوہ نہیں بنتا
علماء کو دبا کر سختی سے منوا کر صلاحیتوں کو چھپا کر زنگ لگا کر کہنا دین غریب الوطن ہے سوائے حماقت کے کچھ نہیں ہے
کہ دین محافظ تو آپ نے باندھ رکھے ہیں ان صلاحیتوں پر آپ سانپ بن کر بیٹھے ہیں
اس کے لیئے طلباء کو زمانہَ طالب علمی سے ایک ذہن بنانا ہوگا
اجارہ و ملازمت کی پرواہ کیئے بغیر حق بیانی کا لازم پکڑیں توکل و قناعت اختیار کریں
ہمیشہ عالمانہ وقار قائم رکھیں
جس رب نے علم جیسا پاکیزہ اعلی و ارفع رزق دیا ہے وہ کھانے پینے کپڑے کا رزق بھی دے گا
یاد رکھیں الله رب العزت نے آپ کو علم دیا تو وہ ضائع کرنے کے لیئے نہیں دیا
نہ آپ کو ضائع کیا جائے گا نہ آپ کا علم ضائع کیا جائے گا
روایت میں ہے
قیامت کے دن علماء کے بارے الله رب العالمین فرمائے گا
میں نے تمہیں علم اس لیئے نہیں دیا تھا تھا کہ تمہیں عذاب دوں جاو تم عذاب سے محفوظ ہو
حق بیانی کریں علم کی حرمت پر سمجھوتہ نہ کریں آپ کی صلاحیات سے زمانہ روشن ہو جائے گا

سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top