الحب_و_العشق 6
بنگلہ دیش کی ایک لڑکی جسے انڈیا کے لڑکے سے محبت ہوگئی اس لڑکی کے پاس پاسپورٹ نہیں تھا
وہ چھپ کر سرحد پار کر گئی
اس دوران ایسی جھیل سے ایک گھنٹہ تیر کر گزری جس میں بے شمار مگر مچھ تھے
پھر کئی گھنٹے ایسے جنگل سے گزری جو چیتوں سے بھرا ہوا تھا
آخر کار منزل پر پہنچ گئی اور شادی کر لی
وہ شاعر کا شعر ہے نا
انہی پتھروں پہ چل کے اگر آ سکو تو آؤ
میرے گھر راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
فرہاد نے شیریں کے لیئے پہاڑ کھود دیا
اس لڑکی نے خطرناک جھیل و جنگل پار کر لیا
بقول اقبال
انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں
غالب نے ارسطو کے قول العشق فتور العقل یعنی عشق عقل کا فتور ہے
اس بات کو اپنے شعر میں یوں بیان کیا
کہتے ہیں جس کو عشق
خلل ہے دماغ کا
جب فتورِ عقل عروج پر ہو تو بندہ ایسی حرکات کر بیٹھتا ہے
مگر مگر مگر
علم والوں کا علم عقل میں فتور نہیں آنے دیتا
اقبال کا فلسفہ عشق کو عقل کے مقابلے لانے کا ہے اسی طرح عموماً عقلاء یہی کہتے ہیں
مگر میں عشق کے مقابلے میں علم ذکر کرتا ہوں (علمِ دین)
آپ علماء کو محبت میں پڑتے دیکھیں گے مگر دنی و ردی حرکات سے دور دیکھیں گے
اور دنیاوی علوم کے علماء کو محبت میں پڑ کر غیر اخلاقی غیر معاشرتی حرکات کرتے دیکھیں گے
اور حدود پار کرتے دیکھیں گے
اسی وجہ سے میں عشق کے مقابلے میں محض عقل نہیں علمِ دین کا ذکر کرتا ہوں
کیونکہ دنیاوی علوم کے علماء عقل رکھتے ہیں علم رکھتے ہیں مگر تباہی کرتے ہیں
اس پر میں نے ایک تحریر لکھی ہے کہ کیا علماء کرام عشق میں پڑتے ہیں؟
فطری شے سے انسان عالم ہو یا جاہل نہیں بچ سکتا
مگر اس میں الجھ جانے کے بعد عالم قابو پا لیتا ہے اور معاشرے میں بگاڑ کا سبب نہیں بنتا جبکہ جاہل کا عشق قتل و غارتگری تک لے جاتا ہے
عشق کریں تو عالمانہ کریں جاہلانہ عشق تو حقیقی ہو تب بھی قبول نہیں دنیاوی ہو تو سیدھا مردود ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
