عربی زبان کی اہمیت

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 141

امام ابن رشد الجد سے سوال ہوا کہ ایک شخص کہتا ہے
عربی زبان کی حاجت نہیں ہے
اس شخص کے بارے کیا حکم ہے
فرمایا

هذا جاهل جدا فلينصرف عن ذلك وليتب منه فانه لا يصح شىء من أمور الديانة والاسلام الا بلسان العرب يقول الله تعالى: «بلسان عربى مبين»
یہ بہت زیادہ جاہل انسان ہے
اسے اپنے اس برے قول سے رجوع کرنا چاہیے اور توبہ کرنی چاہئے کیونکہ دین کی کوئی شے عربی زبان کے بغیر صحیح نہیں ہوتی
الله رب العزت نے فرمایا
ہم نے قرآن کو واضح عربی میں نازل فرمایا
سائل نے کہا
یہ کہنے والا جاہل نہیں ہے حدیثِ پاک کا قاری اور مسائل جاننے والا ہے
امام ابن رشد الجد نے فرمایا
وان كان فان هذا منه جهل عظيم یقال له تب منه وأقلع عنه ولا يلزمه شىء الا أن يرى أن ذلك منه لخبث منه في دينه أو نحو ذلك فيؤدبه الإمام على قوله ذلك بحسب ما يرى فقد قال قولا عظيما
اگر وہ ایسا ہے تو اس کی بہت بڑی جہالت ہے
فرمایا اسے کہا جائے توبہ کرے اور اس قول سے ہٹ جائے تو اس پر کچھ لازم نہیں مگر یہ کہ اس کا قول دین میں خباثت کی وجہ سے یا ایسی کسی وجہ سے ہو حاکم اسے اس قول کی وجہ سے جو مناسب سمجھے تادیب کرے کیونکہ اس نے بہت بڑی بات کہی ہے
❗ مسائل ابی الولید ابن رشد ص ٤٨٦ ❗
عربی زبان کی فضیلت کا انکار جہالت کی وجہ سے ہو تو معافی ہے اور اگر دین کے بغض کی وجہ سے ہو تو قابلِ تعزیر جرم ہے

اس سے عربیت کی اہمیت بھی معلوم ہوتی ہے
یہ مبارک زبان سیکھنا فہمِ قرآن و تعلمِ فرامینِ سرورِ عالمیان کا واحد رستہ ہے
طلباء عربی کو شوق سے پڑھیں اور عربی پڑھنے میں ذوق پیدا کریں
اس زبان کی برکت سے عقل کی گرہیں کھلتی ہیں
مرادِ قرآن سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے
آپ درسِ نظامی کے کسی بھی درجہ میں ہے روز دو صفحے عربی عبارت پڑھیں ایک دن عربی روانگی سے پڑھنا آ جائے گی
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top