تاریخِ_اسلامی 87
دس محرم میں چار کام کرنا ثابت ہیں
یومِ عاشوراء یعنی دس محرم کا دن بڑی عظمت و شرافت والا دن ہے
پہلے یہ سمجھ لیں کہ یومِ عاشوراء کونسا دن ہے؟
جمہور صحابہ و تابعین اور علماءِ امت کے نزدیک دس محرم الحرام کا یومِ عاشوراء ہے
جبکہ حضرت عبد اللہ بن عباس کے نذدیک نو محرم یومِ عاشوراء ہے
اور بعض صحابہ کرام کے نذدیک گیارہ محرم یومِ عاشوراء ہے
اسی وجہ سے نو, دس, اور گیارہ تین دن روزہ رکھنے کا کہا گیا تاکہ تینوں اقوال پر عمل ہو جائے
عمدۃ القاری
عاشوراء کو عاشوراء کہنے کی دو وجہ ہیں
پہلی وجہ کہ عاشوراء عشر سے ماخوذ ہے جس کا معنی دسواں ہیں کیونکہ یہ دسویں تاریخ کو ہے اسی لیئے عاشوراء کہتے ہیں
دوسری وجہ کہ اللہ رب العزت نے اس دن دس انبیاء کرام علیہم السلام کو کرامات و عظمتیں عطاء فرمائی اسی نسبت سے اس دن کو عاشوراء دس والا دن کہتے ہیں
(1) سیدنا موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام دریا سے پار گئے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملی
(2) سیدنا نوح علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر اسی دن جا رکی
(3)سیدنا یونس علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام مچھلی کے پیٹ سے اسی دن باہر تشریف لائے
(4) سیدنا آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کی توبہ اسی دن قبول ہوئی
(5) سیدنا عیسی علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام اسی دن پیدا ہوئے اور اسی دن آسمان پر اٹھائے گئے
(6) اسی دن سیدنا داؤد علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام نے توبہ کی
(7) اسی دن سیدنا ابرہیم علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام پیدا ہوئے
(8)سیدنا یوسف علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام اسی دن کنویں سے باہر نکلے
(9)سیدنا یعقوب علی نبینا و علیہ الصلوۃ و السلام کی بینائی اسی دن واپس آئی
(10) ہمارے پیارے آقا سید الاولین و الآخرین جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اگلوں پچھلوں کے گناہ اسی دن معاف ہوئے
عمدۃ القاری
عاشوراء کے دن چار کام کرنا حدیث مبارکہ سے ثابت ہیں
(1) توبہ کرنا
حدیث مبارکہ میں ہے
ھذا یوم تاب اللہ فیہ علی قوم فاجعلوہ صلاۃ و صوما
اس دن اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول کی تو اس دن میں نماز و روزہ کرو
(2) روزہ رکھنا
حدیث مبارکہ میں ہے
عاشوراء کا روزہ ایک سال کے گناہ مٹا دیتا ہے
مسلم شریف
علماء کرام نے فرمایا اس دن جانور پرندے بھی روزہ رکھتے ہیں
عمدۃ القاری / لطائف المعارف
(3) صدقہ دینا
سیدی عبد اللہ بن عمرو نے فرمایا
جس نے عاشوراء کے دن صدقہ کیا گویا پورا سال صدقہ کیا
لطائف المعارف لابن رجب حنبلی
(4) اھل و عیال پر اس دن وسعت کرنا
ابن ابی الدنیا نے سفیان ثوری کا فرمان نقل کیا
جس نے دسویں محرم کو اپنے اھل و عیال پر کھلا خرچ کیا سارا سال اس پر رزق کھلا رہے گا
سفیان ثوری فرماتے ہیں
ہم پچاس سال سے اس کا تجربہ کر رہے ہیں ہمیں وسعت ہی ملتی ہے
لطائف المعارف
دس محرم کو اثمد سرمہ لگانے کی اصل نہیں ہے
امام عینی فرماتے ہیں
اس باب میں مذکور روایت موضوع ہے اور اس روایت کو ان لوگوں نے گھڑا جنہوں نے امام حسین کو شہید کیا تاکہ سرمہ لگا کر خوشی کا اظہار کریں
مزید امام احمد کا فرمان نقل کیا کہ
دسویں محرم کو سرمہ لگانا بدعت ہے
عمدۃ القاری
اھلِ سنت اھلِ ادب ہیں نہ گستاخی کا ارتکاب کرتے ہیں نہ بدعات میں پڑتے ہیں
دس محرم کو وہی مبارک کام کریں جن کا حکم حدیث پاک میں ہے
جن کی اجازت علماءِ اسلام نے دی ہے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
