طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 19
••• طلباءِ علمِ دین کے لیئے خاص نکات •••
زید بن سنان الاسدی نے فرمایا
إذا كان طالب العلم قبل أن يتعلم مسألة في الدين يتعلم الوقيعة في الناس متى يفلح
جب طالب عالم دینی مسئلہ سیکھنے سے پہلے لوگوں کی عیب جوئی سیکھے گا تو کامیاب کیسے ہوگا؟
(ترتیب المدارک)
امام ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں اور امام شعرانی نے الیواقیت میں فرمایا
لحوم العلماء مسمومة
علماء کے گوشت زہریلے ہوتے ہیں
جو کھاتا ھے وہ ہلاک ہوجاتا ھے
یعنی علماء کی بدگوئی کرنا, برائی بیان کرنا دین کے لیئے انتہائی نقصان دہ ہے, جیسے زہر سے ظاہری جسم مر جاتا ھے ویسے علماء کی برائی بیان کرنے سے ایمان فوت ہوجاتا ھے
آج اتنا پر فتن زمانہ ہے کہ طلباء علماء پر زبان دراز کرتے ہیں اور یہ صرف نفسانی خواہش کی بناء پر اور حق سے اندھا ہونے کی وجہ سے ہے
کسی سنی عالم کا ایک دو مسئلہ میں جمہور کی مخالفت اسے سنیت سے کب نکالنے لگی ہے؟
جب علماء منبروں پر تکفیر کی زبان بولیں گے تو طلباء وہی زبان بولیں گے
اگر علماء تفسیق و تضلیل کثرت سے کریں گے طلباء بھی ایسا ہی کریں گے
جب علماء رافضیت کی اسناد تقسیم کریں گے تو طلباء کی بھی یہی گردان ہوگی!
یاد رکھئے حقیقی محقق پر یہ بات بالکل مخفی نہیں ہے کہ ایک دو مسائل میں جمہور سے عالم کا اختلاف کرنا نہ گمراہ کرتا ھے نہ سنیت سے نکالتا ھے
اگر ایسا ہوتا تو اشاعرہ کے نذدیک ماتریدیہ اور ماتریدیہ کے نذدیک اشاعرہ بدعتی گمراہ ہوتے
اگر ایسا ہوتا تو ابن صباغ مالکی رافضی ہوتے کیونکہ انہوں نے عجیب موقف الفصول المھمہ میں لکھا یعنی امام مہدی پیدا ہو چکے ہیں اور صدیوں سے حیات ہیں
اگر ایسا تو سبط ابن جوزی کو کلیتاً رافضی کہا جاتا
اگر ایسا ہوتا تو امام حاکم کو متہم نہیں صاف رافضی کہا جاتا
کیونکہ ایک حدیث کی صحت پر وہ افضلیت شیخین کا انکار کر رہے ہیں
جیساکہ تذکرۃ الحفاظ میں ہے امام حاکم سے حدیثِ طیر کی نسبت پوچھا گیا تو فرمایا
لا يصح ولوصح لما كان أحد أفضل من علي رضي الله عنه بعد النبي صلى الله عليه وآله وسلم
یہ روایت صحیح نہیں ہے اور اگر صحیح ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علی سے کوئی افضل نہ ہوتا
امام ذہبی نے فرمایا پھر امام حاکم کی رائے بدل گئی تو انہوں نے یہ حدیث مستدرک میں بیان فرما دی
اس بناء پر امام حاکم پر رفض کا داغ بآسانی لگ سکتا تھا کیونکہ اس حدیث کی صحت کی بناء پر وہ مولا علی کو تمام صحابہ سے افضل ماننے کا قول کر چکے تھے
مگر ان کی طرف تشیع کی نسبت کر دی گئی اور یہی کافی ہے کہ ایک دو مسئلہ میں اختلاف سنیت سے خارج نہیں کرتا
امام ابن ابی داؤد سے جب حدیث طیر کے بارے سوال ہوا تو کہا اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت باطل ہوجاتی
اس پر امام ذہبی نے فرمایا ھذہ عبارۃ ردیئۃ وکلام نحس
یہ گھٹیا عبارت اور منحوس کلام ہے
کیونکہ حدیث صحیح ہو یا نہ ہو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا
پھر آگے امام ذہبی نے فرمایا
حدیثِ طیر اپنے ضعف کے باوجود میں نے ایک جزء اس پر جمع کیا اور یہ ثابت نہیں ہے مگر میں اس کے بطلان کا یقین بھی نہیں رکھتا
مزید فرمایا
امام ابن ابو داؤد کو اس نا مناسب عبارت کے باوجود ایک نیکی ملی گی
کیونکہ وہ حفاظِ اسلام میں سے ایک ہیں اور ثقہ ہونے کی شرط میں یہ نہیں ہے کہ انسان غلطی نہ کرے خطاء نہ کھائے اور بھولے بھی نہ!
خطیب بغدادی نے الجامع لاخلاق الراوی میں یحیی بن معین کا فرمان نقل کیا
إنا لنطعن على أقوام لعلهم قد حطوا رحالهم في الجنة منذ أكثر من مائتي سنة
ہم ایسے لوگوں پر طعن کرتے ہیں جو ہم سے تقریبا دو سو سال پہلے جنت میں ٹھکانہ بنا چکے ہیں
یحیی بن معین کے نقد سے علماء ہی واقف ہیں ان کی طعن سے علماء ہی با خبر ہیں جب وہ کذاب کہتے ہیں,دجال,بدعتی،اھل ھواء, کہتے ہیں
اس کے باوجود فرما رہے ہیں ہمارا کام ان کو کہنا ہے جبکہ وہ جنت میں عیش کر رہے ہوتے ہیں
اور یہ تمام ناقدین کی حالت بیان کی ہے کہ سبھی ایسا ہی کرتے ہیں
امام ذہبی سیر اعلام النبلاء میں فرماتے ہیں
ولو أنا كُلّما أخطأ إمام في اجتهاده في آحاد المسائل خطأ مغفورا له قمنا عليه وبدّعناه وهجرناه لما سلم معنا لا ابن نصر ولا ابن مندة ولا من هو أكبر منهما
اگر ہم ائمہ کے اجتہاد میں کسی ایک مسئلہ پر خطاء میں جو کہ مغفور ہے پر پکڑ کریں ہم ان کا رد کریں ان کو بدعتی قرار دیں ان سے دور ہو جائیں تو ہم سے نہ ابن نصر محفوظ رہیں گے نہ ابن منذہ اور نہ ان سے بڑے ائمہ یعنی امام شافعی ہم سے محفوظ رہیں گے
امام ذہبی نے یہ حافظ ابن نصر مروزی کی عبارت ان الایمان مخلوق پر فرمایا ہے
جبکہ اھلِ سنت کا یہ عقیدہ نہیں ہے
امام قتادہ کا تقدیر کے بارے قول ان کل شی بالقدر الا المعاصی
ہر چیز مقدر ہے مگر گناہ نہیں
پر امام ذہبی نے امام قتادہ کو قدریہ میں سے شمار نہیں کیا بلکہ ان کی طرف سے عذر بیان کر دیا کہ ممکن ہے وہ باری تعالیٰ کی تنزیہ و تعظیم کی وجہ سے ایسا کہ رہے ہوں
حلانکہ قدریہ کا حکم سب پر عیاں ہے اور امام قتادہ کا قول تسلیم کر کے بھی ان کو معذور مانا اور بدعتی نہی کہا سنیت سے نہیں نکالا
ابو بکر الصعلوکی سے ابو بکر قفال کی تفسیر کے بارے سوال ہوا تو فرمایا مذہب اعتزال کی نصرت میں ہے
اس پر امام ذہبی نے فرمایا عالم کے محاسن کو شمار کیا جائے اغلاط سے صرف نظر کیا جائے
یعنی اگرچہ اس تفسیر میں معتزلہ مذہب کی حمایت نظر آتی ہے مگر مصنف سنی ہیں ہم ان کی سنیت کو مشکوک نہیں بنائیں گے
نسائی شریف کی حدیث پاک میں ہے
أقيلوا ذوي الهيئات عثراتهم إلا الحدود
عزت داروں کی اغلاط سے در گزر کرو سوائے حدود کے!
یعنی جو دنیا میں معزز لوگ ہیں ان کی عزت کا لحاظ کرو ان کی غلطیوں پر پکڑ نہ کرو ہاں اگر حد واجب ہوتی ہے تو وہ جاری کی جائے گی!
اب علماء سے زیادہ کون عزت دار ہیں بھلا؟
الا الحدود بتا رہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اغلاط سے صرف نظر کرو غلطیاں نہ اچھالو جب تک حد کا معاملہ نہ آ جائے خاموش رہو پردے ڈالے رکھو
مگر یہاں کیسی خدمتِ دین ہے کہ کوڑا ہاتھ میں اٹھاو اور ہر ایک کو لگاتے جاؤ
سنیت کی مہر کے مالک بن جاو
دوسری مہر رافضیت کی رکھو من پسند کو سنی اور خلافِ طبعیت کو رافضیت کی مہر سے آلودہ کر دو
زمانہ پر فتن ہے
سوشل میڈیا پر دینی مذہبی ابحاث سے میرے ناقص علم کے مطابق آج تک ایک انسان بھی راہ راست نہیں آیا ہے
ہاں مگر فتنہ و فساد کا دروازہ کھلا ھے!
آپ کسی سفید ریش سنی عالم کی یقینی غلطی کو اچھال کر کس جانب کھڑے ہیں؟
مذکورہ ائمہ کی صف میں یا ائمہ خلاف ہیں؟
علمی رد کرنا علماء کے ذمے ہے اگر آپ علماء ہیں تو عالمانہ انداز اپنائیں
اگر طلباء ہیں تو بندر نہ بن جائیں کہ جس کے ہاتھ ماچس لگی اس نے سارا جنگل ہی جلا ڈالا!
یا اس بندر سا جس کے پاس ہلدی آگئی اب وہ سمجھتا ھے کہ میں پنساری ہوں میں ہی طبیب ہوں!
طبیب علماء ہیں اور علماء وہی اچھے جو امام ذہبی کے نقوش قدم پر ہیں
یہ چند سطور ہیں جو ضخیم کتاب کی صورت اختیار کر سکتی تھیں مگر میں نے اسی پر اکتفاء کیا کہ جس کو ھادی مطلق جل و علا کی طرف سے ھدایت نصیب ہو وہ تسلی پائے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
