طالب علم کو کیسا ہونا چاہئے

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 89

سیر اعلام النبلاء میں امام ذھبی نے بیان فرمایا
ابو الزناد (متوفی 130 ھجری) مسجد نبوی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام میں داخل ہوئے تو ان کے ارد گرد طلباء کا یوں ہجوم تھا جیسے بادشاہوں کے ارد گرد خدام کا ہوتا ہے
تو کوئی ان سے فرائض کے بارے پوچھ رہا تھا
کوئی حساب کے بارے پوچھ رہا تھا
کوئی اشعار کے بارے پوچھ رہا تھا
کوئی حدیث پاک کے بارے پوچھ رہا تھا
کوئی کسی مصیبت کے بارے پوچھ رہا تھا
یعنی ابو الزناد انسائیکلوپیڈیا تھے مختلف علوم و فنون کے ماہر تھے
علماء کو ایسا ہی ہونا چاہئے علومِ دینیہ کے ساتھ ساتھ کسی ہنر میں بھی ماہر ہونا چاہئے
علومِ دینیہ کے ساتھ ساتھ علومِ دنیا پر مہارت بھی ہونی چاہیئے

سینکڑوں علماء ایسے گزرے جو علم دین کے ساتھ ہنر مند بھی تھے اور دنیاوی علوم کے ماہر بھی تھے
مگر یاد رکھیں پہلے علمِ دین پھر کوئی ہنر پھر علمِ دنیا
جو طلباء دورانِ طالبِ علمی علمِ دنیا کو وقت زیادہ دیں ان کی فوقیت علمِ دنیا ہو یا فراغت کے بعد دینی علوم میں مہارت حاصل کرنے کی بجائے دنیاوی علوم میں پی ایچ ڈی کریں وہ آنے والی نسلوں کے لیئے زہرِ قاتل ہیں

علمِ دین آخرت کے لیئے اور ہنر روزگار کے لیئے اور علمِ دنیا اسلامی معاشرے کی ترقی کے لیئے
علمِ دین کے بغیر ہنر یا علمِ دنیا ایسے جیسے پانی یا پتھر کے بغیر استنجاء ہو
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top