صدیق اکبر افضل کیوں ہیں ؟

تعظیم_و_تکریمِ_صحابہ_فرض_ھے 17

••• نیت کی طاقت و قوت •••

امام عارف باللہ عبد الوھاب الشعرانی سیدی امام حسن بصری کا فرمان نقل کرتے ہیں
دخول أهل الجنة و أهل النار فيهما يكون بالأعمال و خلودهم فيهما يكون بالنيات
جنتیوں کا جنت میں اور جہنمیوں کا جہنم میں داخلہ ان کے اعمال کی وجہ سے ہوگا اور ان میں ہمیشہ رہنا ان کی نیتوں کی وجہ سے ہوگا
{ تنبیہ المغترین ص 26 }
مسلمان کی نیت میں توحید و رسالت پر ایمان ہے تو ہمیشہ جنت میں رہے گا
دنیا میں سب سے مشکل کام نیت ہے اور سب سے آسان کام بھی نیت ہے
نیت کے لیئے کوئی محنت کرنی اور مشقت اٹھانی نہیں پڑتی صرف ذہن کو مطمئن کرنا ہوتا ہے اور یہی کام سب سے مشکل ہے
°°° جس کی نیت خالص ہو وہ نیکی کے کام بلا تردد کرتا ہے اور نیکی کے کاموں میں جلدی کرتا ہے °°°
یہی نکتہ ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ افضل الصحابہ ہیں کیونکہ ان کی نیت میں خلوص اتنا تھا کہ کسی کام حتی کہ ایمان لانے میں بھی تردد نہیں کیا
اسی وجہ سے حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
ما دعوت أحداً إلى الإسلام إلا كانت له عنه كبوة وتردد ونظر إلا أبا بكر
میں نے جس کسی کو بھی اسلام کی دعوت دی تو وہ گھبرایا , اس نے تردد کیا , غور کیا مگر ابو بکر نے بغیر تردد کے اسلام قبول کیا
{ انساب الاشراف للبلاذری }
••• سیدی صدیق اکبر کی نیت مبارکہ خالص تھی , عقل ستھری تھی اور دل پاک تھا اسی وجہ سے بلا تردد ایمان لے آئے •••
ابو بکر عیاش فرماتے ہیں
ما سبقهم أبو يكر بكثرة صلاة ولا صيام ولكن بشيء وقر في قلبه
ابو بکر صدیق صحابہ کرام میں سے سبقت { آگے بڑھنا } کثرت سے نمازوں , روزوں کی وجہ سے نہیں لے گئے بلکہ ایک چیز کی وجہ سے سبقت لے گئے جو ان کے دل میں گونجتی تھی

{ فضائل الصحابة للإمام أحمد }

یہ وہی نیتِ خالص تھی جس کی قوت و طاقت اتنی تھی کہ صدیق اکبر کی ایک نیکی سیدی عمر فاروق اعظم جیسی ہستی مانگتی تھی کہ میری عمر بھر کی نیکیاں ایک طرف صدیق اکبر کی غار والی رات کی نیکی ایک طرف
مگر دیکھا جائے تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اخلاص صرف ایک نیکی میں نہیں بلکہ قبولِ اسلام سے وقتِ وفات تک تھا اور ایسے عظیم الشان اخلاص کی قوت والی ایک نیکی کا یہ عالم کہ عمر فاروق تمنا کریں تو زندگی بھر کی نیکیوں کی طاقت کیا ہوگی ؟
نیت خالص کریں , نیت میں اخلاص جمانے کی کوشش کریں اچھی نیت آپ کو سب سے اچھا بنا دے گی
اب یہاں ذرا وہ حضرات بھی تہ بند سنبھالیں جو مسئلہ تفضیل کی آڑ میں جن کا شیوہ مسلمانوں کا شکار , شریعتِ مطہرہ ان سے بیزار یہ نارِ جحیم کے شکار کہ دین و ایمان کے ہزاروں اصولی مسائل چھوڑ کر تفضیل کے پرستار ہیں
اور پھر تفضیل کے بیان میں اھلِ بیتِ اطہار کی کسرِ شان ان وارثِ علومِ شیطان کا کل جہان ہے
نوجوان کہ طلباء و یا نو فارغ التحصیل کہ علوم و اصطلاحاتِ علماء سے نا آشنا مگر کلامی ابحاث میں وقت کا ضیاع ان کا مشغلہ ہے کو ساتھ ملایا بہکایا گھمایا اور اعلی حضرت کی تعلیمات کو ٹھکرایا اور خود کو امامِ وقت کہلوانے کا مزہ پایا
آئیں اور مجدد مائۃ حاضرہ و سابقہ سے پوچھیں کہ تفضیل شیخین من کل الوجوہ یعنی ہر لحاظ سے { صدیق و عمر افضل ہیں }ہے ؟
فرماتے ہیں
دو چار باتیں ان حضرات سے بھی کر لی جائیں جنہوں نے بعد متاخرین ہند کے بعد کلمات زور آزمائی دیکھ کر بداہتِ عقل اور شہادتِ نقل کو بالائے طاق رکھا اور حضرات شیخین کریمین یا جنابِ صدیق اکبر کی تفضیل من جمیع الوجوہ کا دعوی کر دیا
{ مطلع القمرین ص 68 }
آگے فرماتے ہیں
لہذا شوق دلی اور جوش زن ہے شیخین کی تفضیل من جمیع الوجوہ ماننے والے ذرا سنبھل کے بتائیں
{ مطلع القمرین ص 69 }
آگے اعلی حضرت نے تقریباً 19 انیس خصائصِ مولا علی شمار فرمائے کہ ان میں کوئی دوسرا صحابی شامل نہیں
ہے
••• حیران کن بات دیکھیں کہ کتاب صدیق و عمر رضی اللہ عنھما کی افضلیت پر مشتمل ہے مگر پہلا باب خصائصِ حیدر کرار پر باندھا ہے •••
یوں بیاں کرتے ہیں سنی داستاِ اھلِ بیت
مگر میں یہاں دیکھتا ہوں کہ لوگ ایسے بے شرم و بے حیاء ہیں کہ خصائصِ علی تو دور مناقبِ علی سے چشم پوشی کرتے ہیں اور جن خصوصیات کو امامِ اھلِ سنت نے اخص الخاص شانِ علی کہ کر بیان یہ انہیں عامیانہ انداز میں بیان کرتے ہیں بلکہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس فضیلت میں یہ بھی شامل تھا وہ بھی شامل تھا
” ناصبیت اور کس بلاء کا نام ہے ؟ “
یہی نہ کہ کتمانِ علم خائنین کی نشانی اور کتمانِ فضائلِ اھلِ بیت ناصبیت کی خاص کارستانی ہے
یہ اتنا گرے کہ خاص فضیلتِ علی کو اپنے باپ کے برابر قرار دیتے ہیں
تم نے علی کو عام سمجھا ہے ؟
علی اسی آسمانِ صحابیت کے چمکتے چاند ہیں جس پر صدیق و عمر رضی اللہ عنھما اپنے نورانی جلوے بکھیر رہے ہیں
اھلِ سنیت کا مزاج ہی نہیں کہ افضلیت شیخین بیان کرتے وقت کسرِ شانِ علی کریں جیساکہ ہے ہمیں ہمارے امام نے سکھایا ہے
اگر کسی کو افضلیت شیخین پر کتاب پڑھنی ہو تو صرف مطلع القمرین پڑھیں جس میں شانِ صدیق بھی ملے گی اور شانِ علی بھی پائیں گے
آپ کسی ایک ہستی کو عام نہیں سمجھیں گے
••• کتاب پڑھ کر افضلیت شیخین کے قائل ہوں گے مگر ساتھ محبتِ علی سے بھرا ہوا سینہ بھی پائیں گے •••
خبردار کسی ایک کتاب کو ہاتھ بھی نہ لگائیں جسے پڑھ کر آپ سوچنے لگ جائیں کہ علی تو عام بندہ ہے
علی کے یہ وہ فضائل تو فلاں فلاں میں بھی ہیں
ایسی کتابیں آپ کا ایمان ایسے چھین لیں گی کہ اپ کو خبر بھی نہیں ہوگی
ایسی کتابیں خوشبو دار خوش ذائقہ زہر کی طرح ہیں
جو ظاہری تو محبتِ صحابہ سکھاتی ہیں مگر حقیقتاً اھلِ بیت سے بغض سکھاتی ہیں

زہر پلائے شہد دکھائے قاتل سائن شوہر کش
اس مردار پہ کیا للچانا دنیا دیکھی بھالی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top