طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 38
°°° اصلی علوم کون سے ہیں°°°
ابن عبد ربه نے العقد الفرید میں بیان کیا
علیکم بثلاث جالسوا کبار السن و خالطوا الحکماء و سائلوا العلماء
تم تین چیزیں اختیار کر لو
بڑی عمر والوں کے ساتھ بیٹھا کرو , داناؤں کی صحبت اختیار کرو , اور علماء سے سوال کرتے رہا کرو
بڑی عمر کے لوگوں کے پاس بیٹھنے سے تجرباتی و مشاہداتی علم ملتا ہے سنجیدہ پن اور مجلس کے طور طریقے سمجھ آتے ہیں جبکہ کچی عمر کے لوگوں کے پاس بیٹھنے سے ہلہ گلہ اور صرف مذاق و مسخری سیکھی جاتی ہے
داناؤں کے پاس بیٹھنے سے حکمت کے اسرار و رموز کھلتے ہیں
کم عقلوں کی لمحے بھر کی صحبت اچھے بھلے انسان کے علم و عقل کو فاسد کر دیتی ہے
افلاطون کے بارے آتا ہے کہ وہ اپنے مطب پر گیا اور جاتے ہی شاگرد کو کہا وہ فلاں معجون دو میں کھاؤں گا
شاگرد نے کہا جناب وہ تو مجنون و پاگل کے لیئے ہے
کہنے لگا کہ راستے میں ایک پاگل اچانک سے آکر میرے گلے لگ گیا یا تو مجھ میں پاگل پن ہے یا اس کا اثر مجھ میں نہ ہوگیا ہو
جاحظ نے کتاب الحیوان میں لکھا ہے
شوہر کو چاہیے بیوی کی صحبت میں کم سے کم بیٹھے عورتوں کے پاس زیادہ بیٹھنا اسکی ھیبت و وقار کو کم کر دے گا
اور اس میں زنانہ عادتیں شامل ہو جائیں گی
صحبت دو طرح ہوتی ہے
حقیقی صحبت اور معنوی صحبت
حقیقی صحبت
تو وہ ایک ہی مجلس و محفل ہو , روبرو بیٹھا جائے آنکھوں سے دیکھا کانوں سے سنا جائے
یہ صحبت کبوتر کو باز بھیڑ کو شیر اور شکار کو شکاری بنا دیتی ہے • دوسری صحبت معنوی ہے
جو کتابوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے
° یہ صحبت شر کو خیر اور خیر کو شر بنا دیتی ہے ° کتاب کے ذریعے سے مصنف کا اور کتاب کا نچوڑ پڑھنے والے کے ذہن میں اترتا جاتا ھے
اور یوں پڑھنے والا لکھنے والے کی فکر سے متاثر ہو کر وہی رنگ اپناتا ہے
بعینہ اسی طرح آج کے دور میں سوشل میڈیا , آڈیو , ویڈیو سننا دیکھنا کسی کی فرینڈ لسٹ میں ہونا یہ بھی صحبت معنوی کی مثالیں ہیں
اسی صحبت کا اثر ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مذہبی حلیئے والے مذہبی ناموں والے کرکٹ وغیرہ کے دنوں میں دنیا داروں کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں
عبد اللہ بن مبارک سے کسی نے پوچھا آپ گھر میں اکیلے رہ رہ کر اکتاتے نہیں ہیں؟ آپ کو وحشت نہیں ہوتی؟
فرمایا مجھے کیسے وحشت ہو میں کیسے اکتا سکتا ہوں جبکہ • میں تو صحابہ کرام علیھم الرضوان کی صحبت میں بیٹھتا ہوں •
پوچھا گیا وہ کیسے؟
فرمایا احادیث کی کتابوں کو پڑھتا ہوں گویا صحابہ کی صحبت میں بیٹھتا ہوں
کسی محدث سے پوچھا گیا ہم کس کی صحبت اختیار کریں
فرمایا
کتابوں کی صحبت اختیار کرو
عرض کی گئی لوگوں میں سے کس کی صحبت میں بیٹھا کریں؟
فرمایا
جو لوگ کتابوں کے اندر ہیں ان کی صحبت اختیار کرو
یعنی صحبت معنوی اختیار کریں
اھلِ علم جانتے ہیں منطق و فلسفے کے ماہر متکبر ہوتے ہیں اور تصوف پڑھنے والے عاجزی کرنے والے ہوتے ہیں
یا یوں کہ لیں عقلی علوم کے ماہر مغرور و متکبر ہوتے ہیں
جبکہ نقلی علوم کے ماہر عاجزی پسند ہوتے ہیں
یہ فرق ان کتابوں میں موجود علماء کی وجہ سے ہوتا ہے
لہذا ایک تو صحبت اچھی رکھیں بڑی عمر , حکماء , علماء کی صحبت اختیار کریں
دوسری بات عقلی علوم کی جگہ نقلی علوم پر زور دیں
یعنی وہ علوم جو آپ کے ثواب میں اضافہ کریں
یا یوں کہوں ان علوم پر دن رات لگائیں جو مقصود بالذات ہیں ان علوم پر وقت ضائع نہ کریں جو تابع و آلہ ہیں
اور •• مقصود بالذات پانچ علم ہیں تفسیر , حدیث , فقہ , تصوف , عقائد •••
باقی ان علوم کو حاصل کرنے کی چابیاں ہیں
وہ کتنا ہی احمق شخص ہوتا ھے جو چابیوں پر محنت کرتا رہتا ہے خزانے کو جمع نہیں کرتا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
