سیاہی کا نور

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 20

محمد بن عبد الباقی فرماتے ہیں

من خدم المحابر خدمته المنابر
جس نے قلم و روشنائی کی خدمت کی منبر اس کی خدمت کریں گے
{ تاریخ الاسلام للذھبی }

یعنی وہ وہ بڑا عالم بنے گا اور لوگوں کو منبر پر کھڑے ہو وعظ کرے گا

امام شافعی نے فرمایا

لو لا المحابر لخطبت الزنادقة على المناظر

اگر قلمدان نہ ہوتے تو بے دین منبروں پر خطابات کر رہے ہوتے

{ ادب الاملاء و الاستملاء للسمعانی}

لہذا علم کے حصول کے ساتھ قلم کا استعمال لازم ہے یوں کہ علم کو لکھ کر قید کریں پھر اس کی تشہیر کریں

امام احمد بن حنبل نے چھوٹے بچوں کو قلمیں اٹھائے دیکھا تو فرمایا
هذه سرج الاسلام
یہ قلمدان اسلام کے چراغ ہیں

اور یہ حقیقت ہے کہ قلمدان کی سیاہی سے جہاں روشن ہوتا ھے

امام احمد فرماتے ہیں کہ میرے کپڑے کر روشنائی لگی ہوئی تھی میں اسکو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا
امام شافعی نے مجھے چھپاتے دیکھا تو فرمایا کپڑوں پر روشنائی کا ہونا مروت {یعنی اعلی خلق} ہے

یہ روشنائی دیکھنے میں سیاہ ہوتی ہے جبکہ باطن میں سفیدی ہوتی ہے
لہذا لکھنے کا اہتمام کرنا چاہئے تاکہ باطن کی سفیدی بڑھے اور علم کا نور پھیلے
آپ کبھی غور کریں کہ جس شخص کی سامنے جیب میں قلم ہو اس کا وقار ہی کچھ الگ ہوتا ھے

علماء و طلباء کا ہتھیار قلم دوات و سیاہی ہوتا ھے جس سے اقوام عالم کی تقدیر بھی بدلی جا سکتی ہے
اور جس طالب علم کے پاس یہ ہتھیار نہ ہوں وہ جلد نفس و شیطان و دنیا داری کا شکار ہو کر علم سے دور ہو جائے گا
لہذا کتاب سے پڑھنے پھر کتاب سے نکات لکھنے پھر اسے نشر کرنے کا معمول بنائیں
نشر کرنے میں سوشل میڈیا پر نہیں نجی محافل میں , ہم اسباق کے ساتھ تکرار کریں ان کو بیان کریں, اپنا الگ مسودہ بنائیں
سوشل میڈیا پر عجب پسندی و ریا و واہ واہ سے نجات پائیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top