طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 60
استاد بادشاہ نہیں ہوتا مگر بادشاہ گر ہوتا ہے
اور طالب علم بادشاہ ہونے کے باوجود غلام ہوتا ہے
وہی طالبِ علم علوم و فنون کی پختگی پاتا ہے جو اپنے مال و منصب و ذہانت پر نہ تکبر کرے نہ غرور میں پڑے
روایت میں ہے
من علم عبدا آیۃً من کتاب الله فھو عبدٌ لہ
جس نے کسی کو کتاب اللہ کی ایک آیت سکھائی وہ سیکھنے والا اس کا غلام ہو گیا
امام شعبہ نے فرمایا
جس سے میں نے چار یا پانچ احادیث سن کر لکھ لیں تو میں موت تک اس کا غلام بن گیا ہوں
❗ مقاصد حسنہ صفحہ 483❗
مولا علی کی طرف منسوب قول ہے
جس نے مجھے ایک حرف سکھایا وہ میرا آقا ہے چاہے تو مجھے آزاد کر دے چاہے تو غلامی میں باقی رکھے
استاد کے آگے ایسی عاجزی و انکساری کا اظہار تاریخ کے عظیم فاتح مرادِ رسول مجدد وقت سلطان محمد فاتح علیہ الرحمہ نے اپنے استاد شیخ شمس الدین آق کے سامنے کیا ہے
سلطان خود بہت بڑے عالم متقی تھے
جب سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کیا شہر میں داخلے کے وقت لوگوں نے گلاب کی اتنی پنکھڑیاں پھینکی کہ رستے بھر گئے
سلطان کے ساتھ ان کے استاد شمس الدین آق تھے
لوگوں نے ان کی سفید داڑھی کی وجہ سے ان کو سلطان سمجھا اور پھول نچھاور کرنے ان کی طرف بڑھے تو شیخ شمس الدین آق نے سلطان جو کہ 22 سال کے نوجوان تھے ان کے پیچھے ہوگئے
اور لوگوں کو اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ سلطان ہیں
سلطان فاتح مسکرائے اور کہنے لگے
ان کے پاس ہی جاؤ ان پر پھول پھینکو
کیونکہ میں سلطان ہوں مگر یہ میرے استاد ہیں
سلطان فاتح مسکراتے تھے اور کہتے تھے
یہ گمان نہ کرو کہ میں قسطنطنیہ فتح ہونے پر خوش ہوں میں تو اس بات پر خوش ہو رہا ہوں کہ میں نے شیخ شمس الدین آق کا زمانہ پایا اور ان کا شاگرد ہوں
کیسے لائق و فائق شاگرد و سلطان تھے
آیا صوفیا میں پہلا خطبہ بھی سلطان نے خود نہیں دیا بلکہ اپنے استاد شمس الدین آق کو ممبر پر کھڑا کیا اور کہا
میری زندگی کا عظیم ترین لمحہ ہے کہ میرے استاد آیا صوفیا میں خطبہ ارشاد فرما رہے ہیں
آج کل کے مالدار و ذہین طلباء کو سلطانوں کے سلطان محمد فاتح کا عمل قابلِ تقلید بنانا چاہے کہ جو سلطان ہو کر غلام بن کے رہتے تھے
سلطان کہا کرتے تھے کہ میرے لیئے استاد کا ادب و احترام کرنا غیر اختیاری ہے
یعنی بلا اختیار ان سے محبت و ان کا احترام کرتا ہوں
اسلامی ملک تبھی اوجِ ثریا پر فائز ہوتا ہے جب استاد کے ہاتھ میں کتاب ہو جس سے وہ علوم پھیلائے اور سلطان کے ہاتھ میں تلوار ہو جس وہ عدل پھیلائے
آج نہ علوم نہ عدل نہ طلباء میں جذبہَ احترام و محبت نہ حکام میں اساتذہ کا ادب و احترام
استاد بادشاہ نہیں ہوتا مگر بادشاہ بنا دیتا ہے
مگر اب بادشاہ بننے والے اساتذہ کو ذلیل و رسوا کرتے ہیں
علمِ دین میں ذہانت و فطانت صفر درجہ رکھتی ہے چلیں آپ ایک فیصد کہ لیں مگر نناوے فیصد ادب و احترام اھم ہے
اگر دل میں ادب اور اعضاء سے اس کا اظہار نہ ہو تو آپ کی ذہانت و فطانت منہ پہ ماری جاتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
