سر پر دستار کمر میں تلوار ہمارا وقار ھے

تاریخِ_اسلامی 65

صدیوں تک خفیہ مسلمان رہنے والے لوگ

1492 عیسوی میں سقوطِ اندلس ہوا تقریباً آٹھ سو سال سے قائم اسلامی حکومت مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گئی
عیسائیوں نے وعدہ کیا کہ یہاں رہنے والے مسلمانوں کے مال و جان و عزت کی حفاظت کی جائے گی مگر وعدے کے سو فیصد الٹ کیا
مسلمانوں کے مال چھین لیئے گئے
جوان لڑکوں کو چن چن کر قتل کر دیا گیا
اور خواتین کی عزتوں کو پامال کیا گیا
مگر آفرین ہے ان مظلوم مسلمانوں پر جنہوں نے بظاہر اسلام ترک کیا مگر گھروں میں پہاڑوں پر جنگلوں میں اسلامی احکامات پر عمل کرتے رہے
اندلس میں اتنے کثیر و اکابر علماء پیدا ہوئے کہ اگر ان کی کتب و علوم کو اسلامی مکتبوں سے نکال دیا جائے تو چار میں سے ایک حصہ غائب ہو جائے گا
اسی وجہ سے اندلسی مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بنائے جانے کے بعد بھی وہ خفیہ اسلامی احکامات پر عمل کرتے تھے
اور یہ سلسلہ حیران کن حد تک بیسویں صدی کے شروع تک رہا ہے
“””1950 اور 1980 تک ایسے واقعات سامنے آئے کہ وہاں کے بظاہر عیسائی حقیقت میں مسلمان تھے اور ان کے خاندان صدیوں سے خفیہ اسلامی احکام پر عمل پیرا رہے تھے”””

1573 عیسوی میں میجل موسی کو زندہ جلا دیا گیا کیونکہ وہ عربی بولتا تھا اور ساتھ والے گاؤں میں چاند نظر آنے کی خبر بھیجتا تھا کہ رمضان آگیا روزے رکھو
لیونور ھیرناندس
نامی ایک خاتون کو سخت تکلیفیں دی گئی کیونکہ رمضان کے آخری دنوں میں عید کا چاند دیکھتے ہوئے اس کو پکڑا گیا تھا
اور اس کے شوہر کو قیدی بنایا گیا کیونکہ وہ عید کے چاند کی خبر دینے گیا تھا
غابریل ماموروتو کو قید میں ڈال کر طرح طرح کے دکھ دیئے گئے کیونکہ اسلامی طریقے کے مطابق بکری ذبح کرتے پکڑا گیا تھا
ماریا میرینو کو قید میں ڈال کر ٹارچر کیا گیا کیونکہ وہ زکوۃ کے مسائل لکھ رہی تھی
1538 میں دی بوغورس کو جیل میں ڈال دیا گیا کیونکہ اس نے اپنے گھر میں ولیمہ کا پروگرام رکھا تھا
یوانا نامی ایک لڑکی وزن اٹھانے لگی تو یا اللہ کہا اس بات پر اسکو جیل میں ڈال کر سزائیں دی گئیں
1573 میں خوان سییرا کو قید میں ڈالا گیا کیونکہ وہ اپنے بچے کا سر دھو رہا تھا
ماریا دی مندوزا کو اس لیئے قید میں ڈالا گیا کہ وہ غسل کر رہی تھی
مذکورہ افراد سقوطِ اندلس کے سو سال بعد بھی خفیہ طور پر اسلامی احکام پر عمل کرتے تھے
تو ان میں سے کسی کو زندہ جلا دیا گیا
کسی کو جیل میں طرح طرح کی سزائیں دیکر شہید کیا گیا
اور یہ سب خفیہ معاملات حکومت تک پہنچانے والے ان کے دوست،ہمسائے، محلے دار،واقف کار عیسائی تھے جو
ان خفیہ مسلمانوں کے بظاہر دوست جبکہ اندر سے متعصب کافر تھے
یقین کریں
••• آج بھی جو عیسائی آپ کے ارد گرد محلوں،دفتروں،شہروں میں موجود ہیں اور بظاہر دوست ہیں جب انکو موقع ملا تو آپ کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو اندلس کے مسلمانوں کے ساتھ وہاں کے ان عیسائیوں نے کیا جو صدیوں سے مسلمانوں کے بظاہر دوست بن کر رہتے آرہے تھے •••

علماء نے فرمایا
الکفر ملۃ واحدۃ
تمام کفار ایک ساتھ ہیں
خواہ تمہارا پڑوسی ہو یا رشتہ دار محلے دار ہو یا ماتحت جب اس کا ہاتھ پڑا تمہیں برباد کرنے میں لمحہ بھر نہیں سوچے گا
سقوط اندلس کے واقعات ہم نے اوپر پڑھے جبکہ کتابوں میں اس سے سو گنا زیادہ لکھے ہیں
اور ہند کے موجودہ حالات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں
کہ کسی دور کسی زمانے کسی علاقے سے کفار کی بد عادات نہیں بدل سکتیں
مسلمانوں نے جب کمر سے تلوار اور سر سے دستار اتاری ذلت و خواری ان کا مقدر بن گئی
سر پر دستار اور کمر پر تلوار مسلم نوجوان کا وقار ھے
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top