اسلامی_سائنس 7
قرآن کریم پر ھندی کے ہندسے لکھے جاتے ہیں
یقیناً آپ کو معلوم نہیں ہوگا
جس گنتی کو ہم عربی سمجھتے ہیں وہ اصل میں ھندی ہے
اور جس کو ہم لاطینی سمجھتے ہیں وہ اصل میں عربی ہے
یعنی ١٢٣٤٥٦٧٨٩٠ یہ اعداد عربی نہیں ہندی ہیں
اور 1234567890 انگریزی یا لاطینی نہیں بلکہ خالص عربی ہیں
جس کو مسلمان عظیم سائنسدان ریاضی دان الخوارزمی نے ایجاد کیا
اور اس گنتی کی اس شکل میں جیومیٹری کے راز پوشیدہ ہیں!
جن کو آپ زیرِ نظر تصویر سے سمجھ سکتے ہیں
1 کا مطلب ایک زاویہ ہے یعنی یہ ایک زاویئے پر مشتمل ہے
2 کا مطلب دو زاویئے یعنی یہ دو زاویوں پر مشتمل ہے
3 کا مطلب تین زاویئے یعنی یہ تین زاویوں پر مشتمل ہے
ایسے ہی آخر تک ہر عدد اتنے ہی زاویوں پر مشتمل ہے
خلیفہ منصور کے پاس ایک ہندی ماہر فلکیات آیا جس کے پاس مشہور کتاب سدھانت تھی
جس کا مصنف برھما گپتا تھا اس کتاب میں یہ ١٢٣٤٥٦٧٨٩٠ ہندی اعداد تھے
بعد میں الخوارزمی نے نئی تکنیک سے نئے اعداد ایجاد کیئے جو جیومیٹری کے قواعد کے مطابق ہیں
یہ 198 ھجری کی بات ہے
پھر ہوا یوں کہ ہندی اعداد ایران کے ذریعہ ترکی اور پھر خلافت عثمانیہ کے ممالک میں داخل ہوئے اور عربی کتب میں رائج ہو گئے
ورنہ اھل عرب اعداد استعمال کرتے ہی نہ تھے وہ ایک کو واحد دو کو اثنان تین کو ثلاث کہتے تھے
الخوارزمی کی ایجاد کے بعد وہ اعداد کو ہندسوں کی صورت لکھنے لگے
اور پھر ہندی اعداد اختیار کر لیئے اور یورپ نے اور خود ہندوستان نے عربی ہندسے اختیار کر لیئے
کتنی عجیب بات ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے ہندسے عربی ہیں اور خود عربی ہندی ہندسے استعمال کرتے ہیں
اور تو اور عرب ممالک میں چھپنے والے قرآن و حدیث کے نسخوں پر بھی ہندی ہندسے یہ سمجھ کر لکھے جاتے ہیں کہ یہ عربی ہے
یہ سارا الٹ پلٹ کام صرف اس لیئے کہ ہم اپنی تاریخ سے غافل ہیں
ہم اسلامی سائنس کے کارناموں سے جاہل ہیں
دوڑ پیچھے کی طرف سے گردشِ ایام تو
✍️ #سیدمہتاب_عالم

