آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 29
امام اجل عارف باللہ عبد الوھاب الشعرانی البحر المورود فی المواثیق العھود میں نہایت نفیس بحث فرماتے ہیں
فرمانِ رب العالمین
انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت
اے اھلِ بیت اللہ پاک تم سے نجاست دور کرنے کا ارادہ فرماتا ہے
کے تحت فرماتے ہیں
اہل بیت پہ یہ کرم, عنایت ازلی ہے جو نہ ان کے کسی عمل کے سبب ہے نہ انکی سابقہ بھلائی کے سبب ہے
مزید فرمایا
گناہوں سے زیادہ ناپاک شے کوئی بھی نہیں ہوتی
تو اگر آلِ رسول ﷺ سے کوئی گناہ سرزد ہو بھی جائے تو یہ صورتا گناہ ہیں حقیتا گناہ نہیں ہیں
دلیل اس پہ یہ دی کہ اللہ جل جلالہ ان کے گناہوں پہ گرفت نہیں فرماتا کہ اگر ان گناہ حقیقی گناہ ہوتے تو اللہ قہار و جبار ان کی پکڑ فرماتا
آگے مزید لطیف بات ارشاد فرمائی
اگر آلِ رسول ﷺ کے گناہ ان کی توبہ و استغفار سے معاف ہوتے تب تو ان کی کوئی فضیلت نہ ہوتی کیونکہ توبہ و استغفار سے تو ہر ایک کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں
یہی معنی ہے اس حدیثِ شریف کا جو امام اہل سنہ امام احمد رضا خان محدث بریلی نے مرفوعا ذکر فرمائی
انما سمیت فاطمۃ لان اللہ فطمہا و محبیہا من النار
کہ میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لیئے ہے کہ اللہ نے اس کو اور اس سے محبت کرنے والوں کو آگ سے بچا لیا ہے
اس کے تحت محدث بریلی نے فرمایا
روز محشر اللہ کی رحمت سے قوی امید ہے کہ آل رسول ﷺ کی بلا حساب و کتاب بخشش فرمائے گا
کہ جب ساری خلق حساب دینے میں مشغول ہوگی یہ ستھری والدہ کے بکھرے موتی چادر تطہیر کے سائے میں آرام فرماتے ہوں
اعلی حضرت نے یہ بھی فرمایا
اگر کسی سید پر حد جاری کرنی پڑے تو حاکم سزا دینے کی نیت نہ کرے بلکہ یہ نیت کرے اس پاک جسم پر گندگی لگ گئی ہے وہ صاف کر رہا ہوں
(مفہوماً)
مذکورہ ائمہ کی تصریح سے روز روشن کی طرح ظاہر و باہر ہے کہ سید جیسا بھی بدعمل ہو جیسا بھی بد عقیدہ ہے غیر سادات سے بہر صورت اعلی و افضل ھے اگرچہ ناصبیت چیخ چیخ کر دم توڑ دے
اگرچہ جناب مولا مشکل کشا نے دشمن جل کر خاک ہو جائیں گے
اگرچہ سیدہ کائنات کے در سے دھتکارے ہوئے جل بھن کر راکھ ہو جائیں
ہزار تاویلیں نکالتے پھرو مگر جو مالکِ کُل نے فیصلہ کر دیا تمہاری حیثیت و اوقات ہی نہیں کہ اس کا خلاف کر سکو
اور جن کو زیادہ ہی سنیت کا درد اٹھتا ھے جو زیادہ ہی فکرِ رضا کے مدعی ہیں اب وہ بتائیں
قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربیٰ
(فرما دو کہ میں تم سے دین کی تبلیغ پر کچھ اجر نہیں مانگتا مگر یہ کہ میری قربت داروں کی محبت)
اس میں کہاں ہے صرف سنی و نیک اھل بیت کی محبت کا تقاضا کیا گیا ھے؟
اوپر مذکور حدیث میں کہاں سے نکلتا ھے کہ سیدہ کائنات کہ گناہ گار غیر سنی اس میں شامل نہیں ہوں گے؟
ہر نماز میں اللھم صلی علی محمد و علی آلہ
(اے اللہ درود بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور انکی آل پر درود بھیج)
اس میں کہاں ہیں کہ جس سید کو تم پسند نہیں کرتے جو رافضی یا تفضیلی ہے اس پر درود نہ بھیج
اگر تم کہو سید صحیح العقیدہ بد عمل کی تعظیم اور اس سے محبت تو واجب ہے بد عقیدہ سے نہیں تو یہ ترجیح کس بناء پر ہے؟
آیت و حدیث مطلق ہیں اور تمہاری بد عمل کو چھوڑ کر بد عقیدہ کو نکالنے والی ترجیح بلا مرجح ہے
اب کوئی آل سے مراد متبعین نہ لے کیونکہ آل کا اصلی اور خالصتا معنی اولاد ہی ہے
جب اصل موجود ہو تو فرع کی طرف رجوع جائز نہیں ہاں جب اصل کے سارے افراد شامل ہو جائیں تو کسی قرینہ سے فرع کے افراد شامل کیئے جا سکتے ہیں
ہر نماز میں رب کی بارگاہ میں بیٹھ کر درود بھی بھیجو مگر جب نماز پڑھ چکو تو منہ بھر بھر کر انہی کو گالیاں بکو جن پر ابھی درود بھیج کر آئے ہو
کیا رب العزت سے مذاق کرتے ہو؟
اسکی بارگاہ میں منافقت کرتے ہو؟
حدیث پاک میں ھے
ادبوا اولادکم علی ثلاثۃ
اپنی اولاد کو تین چیزوں کا ادب سکھاؤ
اپنے نبی کی محبت
نبی کی آل کی محبت
قرآن کی قرات کرنا
یہاں پر کہاں بیان ہوا کہ صرف سنی سادات اور باعمل سادات کی ہی تعظیم واجب ھے
جس سید سے تمہیں ذرہ اختلاف ہو جو سید تمہارے قائد پیر کو کچھ برا کہ دو تم اسکی نسبت کا لحاظ ختم کر کے بد لحاظ ہو جاو؟
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا ہی لحاظ کرتے ہو؟
اپنے قائد پیر استاد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فوقیت دیتے ہو؟
ان کے حکم پر ترجیح دیتے ہو؟
اھل سنت اھل ادب تھے مگر سنیت و دین کی خدمت کے نام پر عوامِ اھل سنت کو بے ادب بنا دیا گیا ھے
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آل رسول کے متعلق فرامین میں من مرضی کے معنی نکال کر قرآن و احادیث کو توڑ موڑ کر پیش کرنا ھے تو ناصبیت اور کس بلاء کا نام ھے؟
جب فضائلِ آلِ رسول سن کر اپنی ہی مرضی کرنی ھے تو
قرآن کا فرمان تم پر صادق آتا ھے
صم بکم عمی فھم لا یرجعون ختم اللہ علی قلوبھم
کے تحت آتے ہو!!!
سنی ہو تو با ادب رہو
✍️ #سیدمہتاب_عالم
