زندگی ایسی گزاریں کہ

اسلامی-طرزِتربیت 211

قرآن کریم میں سیدنا ابراہیم علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کی دعاء ہے
وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ
میرے لیئے بعد والوں میں اچھی شہرت بنا دے
مراد ہے کہ بعد والے اچھے الفاظ میں مجھے یاد کریں
اس دعاء کی برکت ہے کہ ہر ملت مسلمان و یہودی و عیسائی حتی کہ ہندو بھی ابراہیم علیہ السلام کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں
اکثم بن صیفی فرماتے ہیں

إنَّما أنتُم أخبار فطيِّبوا أخباركم
تم خبریں ہو تو اپنی خبروں کو اچھا کرو
❗ العقد الفرید ❗
یعنی آنے والی نسلوں کے لیئے تم قصے کہانیاں ہو
لہذا اچھے کام کرو تاکہ نسلوں تک اچھی کہانیاں ، اچھی خبریں پہنچیں
آپ کے آثار باقی رہیں گے خواہ علمی آثار ہوں یا فنی نشان ہوں تعمیری افکار ہوں یا تخریبی آثار یہ سب باقی رہیں گے
عربی شاعر نے کہا
تبقى صَنائعُهم في الأرضِ بعدَهُمُ
والغَيثُ إن سار أبقى بعدَه الزَّهَرَا
زمین میں لوگوں کی کاریگریاں ان کے بعد باقی رہتی ہیں
بادل جب گزرتا ہے تو اپنے پیچھے کلیاں چھوڑ جاتا ہے

دوسرے شاعر نے کہا

فارفع لنفسك بعد موتك ذِكرها
فالذِكرُ للإنسان عُمرٌ ثاني
اپنی موت کے بعد اپنا ذکر بلند کرو کیونکہ یاد انسان کی دوسری عمر ہوتی ہے
یعنی موت کے اچھی یا بری یاد ایک قسم کی دوسری زندگی ہے جسے انسان خود نہیں جیتا بلکہ سابقہ زندگی کے تناظر میں لوگ اچھا یا برا کہ کر یاد رکھتے ہیں
آج آپ کے منہ پہ کوئی کچھ نہیں کہتا مگر پیٹھ پیچھے کہ لیا جاتا ہے مگر پھر بھی کہنے والوں کو ڈر ہوتا ہے کہ اسے معلوم ہوگیا تو کیا ہوگا ؟
مرنے کے بعد تو لوگ بے دھڑک ہو کے بولتے ہیں
لہذا اج کی زندگی اچھے کریں تاکہ دوسری عمر اچھی رہے
ساتھ میں اپنے اچھے آثار چھوڑ کر جائیں مثلاً نیک اولاد و دعاء کرنے والے احباب و دینی کتاب وغیرہ کہ بعض ا
علماء کرام نے فرمایا
کتاب ہمیشہ رہنے والی اولاد ہوتی ہے
وصال کے بعد اچھی یاد بن کے رہنے کی تمنا ہر سلیم العقل انسان کی ہوتی ہے اوپر مذکور ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام نے یہی دعاء مانگی تھی
اچھی یاد بننا ہے تو اچھے کام کرنا ہوں گے علمی آثار چھوڑنا ہوں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top