رزق میں گناہ کا اثر کیا ہے

اسلامی_طرزِتربیت 98

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
إنَّ العبد ليُحرَم الرِّزقَ بالذنب يصيبه
بندہ رزق سے اس گناہ کی وجہ سے محروم کر دیا جاتا ہے جو وہ کرتا ہے
{ابن ماجہ شریف }

یعنی بندے کے رزق میں کمی کا ایک سبب گناہ بھی ہے
لیکن پھر بھی اللہ ربّ العزت گناہ گاروں کو رزق دیتا ہے
مگر اس کے گناہ کا اثر اس کے رزق پر ضرور پڑتا ہے
{1} کبھی رزق میں گناہ کا اثر یوں پڑتا ہے کہ بندہ رزق میں برکت سے محروم رہتا ہے کہ زرق بہت ہے آمدن کثیر ہے مگر پھر بھی رونا دھونا رہتا ہے اخرجات پورے نہیں ہوتے وغیرہ

{2} کبھی رزق میں گناہ کا اثر یوں ہوتا ہے کہ مال کی کثرت کے باجود بندہ مختلف بیماریوں کی وجہ سے رزق کھانے سے محروم رہتا ہے مثلا شوگر میں میٹھے جیسی نعمت سے محروم رہتا ہے یا کولیسٹرول کی وجہ سے چکناہٹ والی اشیاء سے پرہیز کرنا پڑتا ہے

{3} کبھی رزق میں گناہ کا اثر یوں ظاہر ہوتا ہے کہ بندہ کثرت سے کھاتا پیتا ہے مگر شکر نہیں کر پاتا , ناشکری اور غفلت میں رہتا ہے
ناشکری سب سے بڑی بلاء ہے

{4} کبھی رزق میں گناہ کا اثر یوں ظاہر ہوتا ہے کہ عبادت میں دل نہ لگنے سے ظاہر ہوتا ہے

{5} کبھی رزق میں گناہ کا اثر یوں ظاہر ہوتا ہے کہ بخل (کنجوسی) لالچ کثرت اور حق داروں کو حق نہ دینے کی عادت بن جاتی ہے

{6} کبھی رزق میں گناہ کا اثر یوں ظاہر ہوتا ہے کہ بندہ مرنے کو بھول جاتا ہے ظالم و جابر بن جاتا ہے
موت سے عبرت نہیں پکڑتا اور آخرت کی تیاری والے کام نہیں کرتا
یاد رکھیں رزق میں کھانا پینا , پہننا اور استعمال کرنے والی ہر شے شامل ہوتی ہے
اللہ رب العزت ہمیں رزق میں ہر قسم کے برے اثر سے محفوظ فرمائے اور اپنا شکر گزار بندہ بنائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top