ذکرِ علی کیوں جرم ہے

آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 20

حدیث پاک میں ہے
ذکر علی عبادۃ
علی کا ذکر عبادت ھے
{جامع صغیر}

اور قرآن کریم عبادت سے روکنے والوں کے بارے فرماتا ہے

ومن اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ وسعی فی خرابھا
اس سے بڑا ظالم کون جو اللہ کی مساجد میں اس کے ذکر سے روکے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے

تفسیر قرطبی میں ہے

كل موضع يمكن أن يعبد الله فيه ويسجد له يسمى مسجدا قال صلى الله عليه وسلم جعلت لي الأرض مسجدا وطهورا

ہر وہ جگہ جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت ممکن ہو اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا جانا ممکن ہو وہ مسجد ہی ہے
کہ رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا
تمام زمین میرے لئیے مسجد اور پاک بنا دی گئی ہے
{تفسیر قرطبی}

ذکرِ علی نہ صرف حسنہ ہے نہ صدقہ بلکہ ان سے بڑھ کر عبادت ہے جو کہ مقصود و مطلوبِ شریعت ہوتی ہے

حسنہ نیک عمل پہ مرتب ثواب کو کہتے ہیں جبکہ صدقہ راہِ خدا میں خرچ مال یا راہِ خدا تک پہنچنے کے ذریعہ کو کہتے ہیں

جبکہ ذکرِ علی ان سے اعلی و ارفع شے عبادت یعنی مقصودِ شریعت ہے

اگر حسنہ یا صدقہ میں رکاوٹ ڈالی جاتی تو راہِ نجات ممکن ہے مگر عبادت میں رکاوٹ ڈالنا جرمِ عظیم و فعلِ لعین اور راہِ جحیم ہے

ہم آپ کو ہر گز ناصبی نہیں کہتے حاشا و کلا

مگر یہ جراثیم فضاء کو خراب کر رہے ہیں آپ پر اس کا خیال لازم اور رعایت واجب ہے
کہ منہ اٹھا کے آپ کثرت سے ذکرِ علی کو رافضیت کہ دیں
یا یہ شکوہ کرتے نظر آئیں باقی خلفاء ثلاثہ کا ذکر اتنا کیوں نہیں کیا جاتا

اس سوال کی ہمت ہے ایمان ہے اوقات ہے تو جناب محمد مصطفیٰ صلی الله علیہ وسلم سے کریں
حضور آپ نے صدیق و عمر و عثمان رضی الله عنھم کا ذکر اتنا کیوں نہیں کیا جتنا مولا علی کا کیا ہے ؟
حضور آپ نے اتنے فضائلِ علی کیوں بیان فرمائے ہیں؟
اوقات ہے یہ سوال کرنے کی ؟ بلکہ سوچنے کی بھی ؟

یہ عجب فضا بنتی جا رہی ہے کہ کسی محفل میں ذکرِ اھلِ بیت پانچ دس منٹ کیا جائے تو چہروں پہ مرونی چھا جاتی اور نحوست واضح نظر آنے لگتی ہے
کثرت سے ذکرِ علی کرنا صدیوں سے اھلِ سنت کی پہچان ہے جو ذکرِ علی روکتا نظر آئے سمجھ جائیں ناصبی مزاج ہے

اھل سنت فقط ردِ رافضیت کے ماہر نہیں بلکہ نصب کے خنازیر کے بھی شکاری ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top