دل کی سختی کا علاج

عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 127

ایک شخص نے امام حسن بصری کو کہا
أَشْكُو إِلَيْكَ قَسْوَةَ قَلْبِي
میں آپ سے اپنے دل کی سختی کی شکایت کرتا ہوں
امام نے فرمایا
أَذِبْهُ مِنَ الذِّكْرِ
اسے ذکر سے پگھلا دو
❗ ذم الھوی لابن الجوزی ❗

ابن ابی الدنیا نے یوں نقل کیا
ادْنُهْ مِنَ الذِّكْرِ
دل کو ذکر کے قریب کرو
ایک شخص نے سیدہ طیبہ طاہرہ عفیفہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنھا سے عرض کیا
دل کی سختی کی دوا کیا ہے
فرمایا
مریضوں کی عیادت کرنا
جنازے میں حاضر ہونا
موت کا انتظار کرنا
ایک شخص کے مالک بن دینار سے دل کی سختی کی دوا پوچھی تو فرمایا
مسلسل روزے رکھو اگر پھر بھی دل نرم نہ ہو تو راتوں کو قیام کرو اگر پھر بھی سختی کم نہ ہو تو کھانا کم کر دو

❗ ذم الھوی لابن الجوزی ❗

دل سخت ہو جائے تو نیکی سے بھاگتا ہے اگر نیکی کی بھی جائے تو مٹھاس نہیں پاتا
دل کی سختی کا سبب دل پر سیاہ زنگ جانا ہے اور یہ سیاہ زنگ ذکرِ الٰہی سے اترتا ہے
چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے
اللهُ اللهُ اللهُ اللهُ
کریں
لا اله الا الله
پڑھیں
سبحان الله العظيم و بحمده
پڑھیں
دل کی سختی بھی دور ہوگی دل کی بے چینی بھی ختم ہو گی
جب بندہ اپنے رب کو یاد نہ کرے تو مومن کا ضمیر اسے ملامت کرتا ہے اور اس کی روح بے چین ہو جاتی ہے
اول اول یہی کیفیت رہتی ہے پھر دل سخت سے سخت تر ہوتا جاتا ہے
اس کی دواء ذکرِ الٰہی ہے

دن و رات میں ایک وقت رکھیں صرف آدھا گھنٹہ ذکرِ الٰہی کریں
زندگی میں قرار آئے گی دل میں بہار آئے گی
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top