در مختار سے فتوی دینا کب ھے

رسم_المفتی 1

اعلی حضرت امام اھل سنت فتاوی رضویہ جلد 17 صفحہ 253 پر شاندار نکتہ ارشاد کرتے ہیں
در مختار ہر چند معتبر کتاب ہے مگر جب تک اس کے حواشی پاس نہ ہوں اس سے فتوی دینا جائز نہیں کیونکہ عبارت اس کی اکثر مقامات پر ایسی چیستاں ہے جس سے صحیح مطلب سمجھ لینا دشوار ہوتا ہے.
جس کے پاس افتاء کا قلمدان ہو اس کے ذہن کی اڑان دور تک ہونی چاہئے
محض متون و شروح کا حفظ اھلیتِ افتاء کو بس نہیں ہے
اسی لیئے امام نے آگے صفحہ 259 پر ارشاد کیا کہ
المطلق یحمل علی الکمال الخالی عن الموانع للصحۃ
مطلق کو ایسے کمال پر محمول کیا جائے گا جو موانع صحت سے خالی ہو
کے تحت فرمایا
ملاحظہ ہو کہ جب مفتی کے لیئے یہ حکم ہے کہ اصل صحت پر عمل کرے اور شرائطِ صحت کا اجتماع مان کر فتوی دے تو قاضی جس کی نظر صرف ظاہر پر مقتصر ھے اور احتمالات بعیدہ کا لحاظ اس کے منصب سے جدا بات ہے
یعنی قاضی ظاہر پر فیصلہ کرے گا جبکہ مفتی اصلِ صحت پر نگاہ رکھے اتنا کہ ظاہر باطن سے مل جائے تب جا کر فتوی جاری کرے
ولھذا جلد 25 صفحہ 74 پر ارشاد کیا کہ
ہر شق پر حکم بتا دینا خلافِ مصلحت (ھے)
یعنی جب سائل کے سوال سے کئی شقیں ظاہر ہوتی ہوں
یہ ماہر مفتی کی نشانی ہے کہ حکم کو یوں چھانٹ لے گویا ظاہر و باطن ایک ہو جائے اور ہر شق پر فتویٰ جاری نہ کرے
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top