تاریخِ_اسلامی 51
12 ستمبر 1996 عراق کے صدر صدام حسین کے بڑے بیٹے پر قاتلانہ حملہ ہوا
جس کو دیکھنے صدام حسین ہسپتال گئے
شفقتِ پدری میں صدام حسین نے بیٹے کی زندگی بچانے کے لیئے قرآن کریم کا ایک نُسخہ اپنے خون سے لکھوانے کی منت مانی
اس کام کے لیئے عراق کے سب سے مشہور خطاط عباس شاکر الجودی کو بلایا گیا
اور ایک باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا کام قرآن کریم لکھنے میں غلطی سے بچانا
اور جب خون ختم ہو جائے تو صدام حسین کو آگاہ کر کے مزید خون لینا تھا
خطاط عباس شاکر کے مطابق خون گاڑھا ہونے کی وجہ لکھنا ممکن نہ تھا کیونکہ خون جم جاتا تھا
پھر ایک دوست نے کوئی لیکوڈ فراہم کیا جس سے خون کا جمنا بند ہوا اور لکھنے میں آسانی ہوگئی
° 2 سال کے عرصہ میں 605 صفحات پر تین لاکھ چھتیس ہزار کلمات پر مشتمل قرآن کریم کا یہ نسخہ تیار ہوگیا °
یہ نسخہ اس وقت بغداد کی جامع مسجد ام القری میں سنی محکمہ اوقات کے زیر انتظام محفوظ ہے
عباس شاکر نے بتایا کہ اس کا معاوضہ صرف چوبیس ڈالر تھا جبکہ صدام حسین نے اس کام کے بدلے اس کو تین ہزار ڈالر دیئے تھے
جب صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو شیعہ حکومت نے صدام حسین کی ہر نشانی ہر یاد کو مٹا دیا
مگر یہ نسخہ سنی اوقاف نے محفوظ رکھا!
ماہرین کے مطابق اس نسخے کی قیمت لاکھوں ڈالر میں ہے
اور اس کو چوری کرنے کی بہت بار کوشش کی گئی ہے
یاد رکھیں قرآن کریم کو خون سے لکھنا حرام ہے بلکہ انسانی خون کو منتقل کرنے کے سوا کسی طرح بھی استعمال کرنا حرام ہے
صدام حسین کے اس کام پر عرب میڈیا و علماء نے شدید تنقید کی تھی مگر اس نے کسی کی نہیں سنی اور مکمل کروایا
اس کے باجود صدر صدام حسین ایک سچے مسلمان پکے سنی اور اصل سید تھے
عالمِ کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرنے والے اور مسلم امہ کا درد رکھنے والے تھے
اللہ رب العزت ان کے گناہوں کو معاف کرے اور ان کے درجات بلند فرمائے
ناجائز کام کی منت ماننا جائز نہیں نہ ان کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے اگر کبھی منت ماننی ہو تو نماز , روزہ , حج و عمرہ اور مقرر مال خرچ کرنے کی منت مانیں
اپنے بچوں کو علماء بنانے کی منت مانیں
سیدمہتاب_عالم# ✍️
