خود پہ توجہ دیں کسی کی ہرگز نہ سنیں

اسلامی_طرزِتربیت 86

آپ کا خاندان نہیں جانتا کہ آپ اپنی روزمرہ کی زندگی میں یا اپنے بزنس یا ملازمت میں کونسی مشکلات سے گزر رہے ہیں

••• اور کام میں شریک دوست احباب آپ کے گھریلو معاملات کی پیچیدگیاں نہیں جانتے •••
آپ کے دوست نت نئی آنے والی مشکلات سے غافل ہیں
اور آپ کی بیوی آپ کی طرف سے محبت اور حمایت کی طلب گار ہے

قصہ مختصر آپ سے تعلق رکھنے والا ہر انسان آپ کے اسی روپ کو دیکھے گا جس سے اس کا فائدہ ہوتا ہے

لہذا خود پر توجہ دیں اپنے آپ کو وقت دیں
••• کسی کا حق نہ ماریں اور کسی کا دل نہ دکھائیں اس کے سوا جو دل میں آتا ہے من مرضی کریں ••|

ابن ماجہ کی حدیث پاک میں
لا ضرر ولا ضرار
نہ نقصان اٹھانا ہے نہ نقصان پہنچانا ہے
مثلا اوقات سے بڑھ کر کسی دینی یا دنیاوی شخص کی خدمت کرنا, دوست احباب اور عزیز رشتہ داروں کے لیئے انتہائی تکلف میں پڑنا بے جا مروت میں اپنا نقصان کر بیٹھنا وغیرہ
زیادہ تکلف میں پڑنے والا اور کثیر المروت احمق ہوتا ہے اور ایسا تکلف و مروت منافقت میں گھسیٹ لے جاتا ہے
بندہ مروت و تکلف میں جان بوجھ کر دھوکے کھاتا ہے جو کہ مومن کی شان نہیں ہے
بخاری کی حدیث پاک میں ہے
لا يُلْدَغُ المؤمنُ من جُحْرٍ واحد مرتين
مومن ایک سوراخ سے دو بار دھوکہ نہیں کھاتا
مگر کثیر التکلف و کثیر المروت انسان شرما شرمی میں دھوکے کھاتا ہے
اور لا ضرر ولا ضرار پہ عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سے نقصان اٹھاتا ہے
یہاں کثیر المروت سے مراد وہ جو شرما شرمی میں اپنا حق بھی حاصل نہ کرے
اور تکلف میں حد سے بڑھ کر کوشش کرے اور اسی حماقت میں اپنی بیوی بچوں کا حق کسی اور کو کھلا دے
••• کسی کی پرواہ نہ کریں کسی کی رضا میں حیثیت سے بڑھ کر کام نہ کریں اور کسی کی ناراضی کی وجہ سے اپنی طبیعت کو بدلنے کی احمقانہ کوشش نہ کریں •••
ورنہ لوگ راضی نہیں ہوتے بندہ پریشانیوں میں جلد بوڑھا جاتا ہے

رب راضی تے سب راضی!
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top