خواب والی عقل

اسلامی_طرزِتربیت 54

‏ امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں
إني لأرىٰ المرأةَ في منامي فأعلمُ أنها لا تحلّ لي فأصرف بصري

میں نے خواب میں ایک عورت کو دیکھا تو مجھے خیال آیا اس کی طرف دیکھنا میرے لئے جائز نہیں ہے تو میں خواب میں ہی اس عورت سے نظر پھیر لی

ایک شخص کہنے لگا

کاش کہ میری عقل , سمجھ بوجھ بیداری میں ویسی ہو جائے جیسی امام ابن سیرین کی عقل و سمجھ بوجھ خواب میں ہوتی ہے

اللہ والے خوابوں خیالوں میں بھی فالتو خیالات کو جگہ نہیں دیتے جبکہ ھم جان بوجھ کر نامحرموں کے خیالات کو ذہن میں گھساتے ہیں
بعض اوقات انسان خواب دیکھ رہا ہوتا ہے اور اسے پتا چل جاتا ہے کہ میں خواب میں ہوں مگر وہ پھر بھی گرنے , چوٹ کھانے سے ڈرتا ہے اسی طرح بیدار انسانوں کو معلوم ہوتا ہے کہ ہم دنیا میں سفر کر رہے ہیں ہماری پہلی منزل قبر ہے مگر جاگتا انسان کیوں توجہ نہیں کرتا ؟

مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا فرمان ہے
الناس نيام إذا ماتوا انتبهوا
لوگ سوئے ہوئے ہیں جب وہ مریں گے تب جاگ جائیں گے

یعنی خوابِ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور جب آنکھیں بند ہوں گی قبر کے اھوال دیکھیں گے تو خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائیں گے مگر تب دیر ہو چکی ہوگی

لہذا آج غفلت کی نیند سے غفلت کی چادر اتار دیں اور جاگ جائیں
الله رب العزت نے بصارت دی ہے تو بصیرت سے قبر کے اہوال سے نفس کو ڈرائیں`
آج جاگ جائیں قیامت تک قبر میں پر سکون نیند پائیں گے
#سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top