عشقِ_سیدِ_عالم 18
ایمان دے کے واپس لینا کریم کی شان نہیں
ایک شخص نے مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بارگاہ میں عرض کیا
رسول دو عالم صلی الله علیہ وسلم کے اوصاف شمار کریں
مولا علی نے فرمایا
دنیا کی خوبیاں بتاؤ
وہ شخص کہنے لگا دنیا کی نعمتیں اور خوبیاں بیان سے باہر ہیں اتنی کثیر ہیں کہ بندہ شمار نہیں کر سکتا
مولا علی نے فرمایا
تم دنیا کی خوبیاں بیان نہیں کر سکتے جبکہ الله رب العالمین نے دنیا کے بارے فرمایا
قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ
کہ دو کہ دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے
تو اس ہستی کے اوصاف کیسے شمار کیئے جا سکتے ہیں
جس کے بارے رب العالمین نے فرمایا
وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ
بے شک اے پیارے تم عظیم اخلاق پر فائز ہو
یعنی انسان قلیل دنیا کو نہیں سمجھ پایا تو عظیم ہستی کے بارے کون بیان کر سکتا ہے ؟
تِرے خُلْق کو حق نے عظیم کہا تِری خِلْق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا ترے خالقِ حُسن و ادا کی قسم
بلکہ یہاں تو عِجزِ انسانی کی حالت یہ ہے
زندگیاں ختم ہوئیں اور قلم ٹوٹ گئے
تیرے اوصاف کا اِک باب بھی پورا نہ ہوا
ابن قیم الجوزیہ نے لکھا
امتی ہر سانس پر درود شریف پڑھے تب بھی حضور جانِ عالم صلی الله علیہ وسلم کا حق ادا نہیں کر سکتا
{جلاء الافہام }
کون ہے جسے اس در کی خیرات نہ ملی ہو ؟
کون ہے جو یہ کہ سکے کہ میری جھولی میں ان کا ٹکرا نہیں ہے ؟
کون ہے جو ان کے بغیر کچھ ہونے کا دعویٰ کر سکے ؟
لَا وَرَبِّ الْعَرْش جس کو جو مِلا ان سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی
وہ جہنم میں گیا جو اُن سے مستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کو حاجت رسول اللہ کی
الله دیتا ہے حضور تقسیم کرتے ہیں
فرماتے ہیں
صلی اللہ علیہ وسلم
إنما أنا قاسم والله یعطي
میں تقسیم کرنے والا ہوں اور الله دینے والا ہے
ان کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے
مالک کُل کہلاتے یہ ہیں
رب ہے مُعْطِی یہ ہیں قاسم
رِزْق اُس کا ہے کھلاتے یہ ہیں
ہمیں علم و فضل • عقل و شعور • دولت و ثروت • حشمت و منصب • دنیا و آخرت • اسلام و ایمان اُنہی کے در سے تو ملا ہے
جب ایمان انہوں نے دیا ہے تو ہم کہتے ہیں
تو نے ایمان دیا تو نے جماعت میں لیا
تو کریم اب کوئی پِھرتا ہے عطیہ تیرا
یعنی سخی سخاوت کر کے بھیک دے کے واپس نہیں لیتا آپ نے ہمیں ایمان دیا ہے تو واپس نہیں لیں گے
اُنہیں جانا اُنہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا
سیدمہتاب_عالم# ✍️
