طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 90
سیدی ابراھیم بن ادھم سے کسی نے عرض کیا فلاں شخص علمِ نحو سیکھ رہا ہے
فرمایا
هو إلى أن يتعلم الصمت أحوج
اسے نحو سے زیادہ خاموشی سیکھنے کی حاجت ہے
❗حلية الاولياء ❗
شیطان طالبِ علمِ دین پر قیل و قال اور لا یعنی ابحاث کے ذریعہ ہی قابو پاتا ہے کہ طالبِ علمِ دین فرائض و واجبات و سنن, سننے سنانے کی بجائے سیاسی تبصروں , اختلافی مسئلوں میں الجھا رہتا ہے اور کثیر الکلام ہو جاتا ہے
اور جو زیادہ بولتا ہے گمراہی حتی کہ کفریہ کلمات بھی زبان سے نکال دیتا ہے
اگر آپ حقیقی طالبِ علمِ دین بننا چاہتے ہیں تو تین چیزوں کا استعمال نہ ہونے کے برابر کریں
کھانا , بولنا ، اور سونا
زیادہ کھانے سے پیاس لگتی ہے اور پانی پینے سے بلغم پیدا ہوتا ہے بلغم سے سستی طاری ہوتی اور زیادہ نیند آتی ہے
لہذا بندہ کھانا کم کر دے تو نہ زبان کھلے گی نہ آنکھ بند ہوگی
آپ صرف چالیس دن تجربہ کریں
کم کھائیں کم بولیں اور کم سوئیں
تو آپ دیکھیں گے آپ کی دل سے حکمت کے چشمے پھوٹ پڑیں گے اور زبان سے جاری ہو جائیں گے
تجربہ ہے آپ جتنا کم بولیں گے اُتنی آپ کی فکر میں حدت آئے گی
آپ جتنا کم کھائیں گے آپ کے دل میں اُتنی روحانیت آئے گی
آپ جتنا کم سوئیں گے آپ کے چہرے پر اُتنی نورانیت آئے گی
روح کے بغیر جسم زندہ رہ سکتا ہے ؟
اسی طرح حصولِ علمِ دین کی روح کم کھانا کم سونا کم بولنا ہے
موجودہ دور کے طلباء و طالبات کی کم ہمتی ,سستی اور دنیاوی کاموں میں رغبت اصولِ ثلاثہ (کم کھانا کم سونا کم بولنا) سے مانع ہیں
اوپر نسخہَ کیمیاء عرض کیا کہ
چالیس دن یہ عمل کریں ان شاءاللہ چالیس دن بعد آپ کو خود میں واضح تبدیلی نظر آئے گی
ایک اہم ترین اصول یاد رکھیں
جب تک آپ اپنے ساتھ مخلص نہیں ہوتے کوئی آپ کے ساتھ مخلص نہیں ہوگا
اپنے لیئے اپنے مستقبل اپنے علم کے لیئے دوستوں کا جھرمٹ چھوڑیں, وٹس ایپ و فیسبک کی چکاچوند روشنیاں ترک کریں اور چالیس دن اصولِ ثلاثہ اپنائیں علم کا مزہ آئے گا
سکوت کا مزہ آئے گا کم کھانے کم سونے کا مزہ آئے گا
خود سے مخلص ہو جائیں دوست فصلی بٹیرے ہیں جو آپ کا وقت برباد کر کے اڑ جائیں گے
آپ کو خود اپنی شخصیت بنانی ہے
آپ کو خود عالم بننا ہے
آپ کو خود آگے بڑھنا ہے
اچھے طالب بنیں گے تو اچھے عالم بن پائیں گے
جو اچھا طالبِ علم نہیں بن پاتا وہ اچھا عالم بھی نہیں بن پائے گا
لہذا اولاً کم بولا کریں ثانیاً کم کھایا کریں ثالثاً کم سویا کریں
✍️#سیدمہتاب_عالم
