حالتِ قبض و حالتِ بسط

تصوف_وصوفیاء 61

شیخ المشائخ عارف باللہ امام ابن عطاء اللہ السکندری فرماتے ہیں
أن العارفين في مقام البسط أكثر خوفاً من أنفسهم في مقام القبض

اولیاء کرام خود سے مقامِ قبض کی نسبت مقامِ بسط میں زیادہ ڈرتے ہیں
{شرح الحکم العطائیہ}
حالتِ قبض و بسط صوفیاء کرام کے نذدیک اصطلاحات ہیں

حالتِ بسط
جب بندہ اچانک خوش ہو جائے , دل تازہ ہو , گویا دل پر کوئی بوجھ تھا ہی نہیں

حالتِ قبض
جب بندہ اچانک پریشان ہو جائے , دل پر بوجھ سا بن جائے
تو صوفیاء کرام حالتِ بسط میں الله رب العزت کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ہمیں نعمتوں میں غافل کر کے نہ مار دیا جائے
اور حالتِ قبض میں گناہوں کی بخشش و مراتب کی بلندی طے ہونے کی امید رکھتے ہیں
دل کی تنگی دنیا تنگ کر دیتی ہے
قرآن کریم نے غزوہ سے پیچھے رہ جانے والے تین صحابہ کرام کی حالت بیان فرمائی

ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ
زمین ان پر وسیع ہونے کے باجود تنگ ہوگئی اور ان پر ان کے دل تنگ ہو گئے
کیونکہ جب دل تنگ ہوتا ہے کہیں چین نہیں آتا اس کیفیت میں بعض اوقات عبادت کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے
اسی پر سیدی عمر فاروق اعظم کا فرمان ہے
جب آسانی کے دن ہوں تو فرائض کے ساتھ نوافل کی کثرت کیا کرو
یعنی جب حالتِ بسط میں ہو تو انسان زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرے کیونکہ حالتِ قبض میں تو اپنا آپ بوجھ لگتا ہے
✍️ سید مہتابِ عالم

Scroll to Top