المزاح_و_الظرافت 21
ولید بن یذید نے اپنی بیوی سُعدی کو طلاق دے دی تو سُعدی نے آگے شادی کر لی ولید نادم ہوا
ولید نے اشعب کو کہا تجھے پانچ ہزار درھم دوں گا اگر تو میرا پیغام سعدی کو پہنچا دے گا
اشعب نے کہا ضرور تو اسے پانچ ہزار درھم دیئے گئے
ولید نے کچھ اشعار کہے اور اشعب کو حکم دیا یہ سعدی تک پہنچا دو
أَسُعدى هل إليكِ لنا سبيلٌ
ولا حتى القيامةِ من تلاقِ؟
اے سعدی کیا تجھ تک پہنچنے کی کوئی راہ ہے ؟ یا کہ قیامت تک ممکن نہیں ہے
بلى ولعلّ دهرًا أن يواتي
بموتٍ من خَليلِكِ أو فراقِ
کیوں نہیں, شاید زمانہ تیرے دوست [موجوہ شوہر] کی موت یا جدائی لے آئے
یعنی تیرا شوہر مر جائے یا تجھے طلاق دے دے
اشعب سعدی کے پاس گیا اس سے بات کی اجازت طلب کی
سعدی نے کہا خیریت ہے اشعب آج ہماری ملاقات کو آگئے ہو
کہنے لگا مجھے ولید نے آپ کے لیئے پیغام دے کر بھیجا ہے
سعدی نے کہا کیا ہے؟
اشعب نے وہ اشعار سنا دیئے
تو سعدی نے اپنی لونڈیوں کو کہا اس خبیث کو پکڑ لو اشعب کہنے لگا ولید نے مجھے پانچ ہزار درھم دیئے میں تبھی آیا ہوں
سعدی نے کہا اگر تو میرا پیغام اس تک نہیں پہنچائے گا تو مار کھائے گا
اشعب نے کہا ولید نے پیغام پہنچانے کے درھم دیئے تھے آپ بھی کچھ دیں تو سعدی نے کہا میری یہ قالین تیری ہوگی اگر تو میرا پیغام پہنچا دے گا
اسے کہنا
أَتبكي على سُعدى وأنت تركتَها؟
لقد ذَهبَت سُعدى فما أنت صانعُ
کیا تو سعدی پر روتا ہے جبکہ تو نے اسے چھوڑ دیا تھا
اب تو سعدی چلی گئی ہے تو کیا کر لے گا
جب ولید نے یہ شعر سنا تو اسے غصہ آگیا اور اشعب کو کہا
یا تو ہم تجھے قتل کریں گے یا محل کی اونچائی سے زمین پر گرا دیں گے یا درندوں کے آگے چھوڑ دیں گے
کیا اختیار کرتے ہو ؟
اشعب نے سر جھکایا اور کمال کا جملہ کہا
يا سيدي ما كنت لِتُعذِّبَ عينَين نَظرتَا إلى سُعدى
میرے آقا آپ ان آنکھوں کو عذاب نہیں دیں گے جنہوں نے سعدی کی زیارت کی ہو
❗حدائق الازھار لابن عاصم الغرناطی ❗
جب بندہ مال کی محبت میں دو محبت کرنے والوں کا قاصد بنتا ہے تو برباد ہوتا ہے
اور اگر چالاک ہو تو محبت کے واسطے ڈال کر بچ جاتا ہے جس طرح اشعب بچ گیا
محبوب کے شہر و در گھر و حجر و شجر در و دیوار و اشجار سے محبت ہوتی ہے
محبوب کے شہر سے آنے والے مسافر سے محبت ہوتی ہے
أَمُرُّ عَلى الدِّيارِ، دِيارِ لَيْلى
أُقَبِّلُ ذا الجِدارَ وذَا الجِدارا
میں لیلی کے شہر سے گزرتا ہوں تو کبھی اِس دیوار کبھی اُس دیوار کو چومتا ہوں
وما حُبُّ الدِّيارِ شَغَفْنَ قَلْبي
وَلكِنْ حُبُّ مَنْ سَكَنَ الدِّيارا
میرے دل کو شہر کی محبت نے نہیں جکڑا ہوا بلکہ جو شہر میں آباد ہے یعنی لیلی اس کی محبت نے گرفتار کر رکھا ہے
بس اسی اصول کے تحت محبوب کو دیکھنے والی آنکھیں عزیز ہوتی ہیں
عربی مقولہ ہے
لأجل عين تكرم مدينة
ایک آنکھ کی وجہ سے پورے شہر کی عزت کی جاتی ہے
اسی وجہ سے اشعب دونوں طرف سے بچ گیا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
