عجائباتِ_عالم 7
••• جنات عرب شعراء کو شاعری سکھاتے تھے •••
کیا آپ جانتے ہیں کہ لفظ عبقری کہاں سے آیا ہے؟
قدیم عربوں کے نذدیک ایک وادی تھی جس میں جنات آباد تھے
وادی عقبر وہ جگہ ہے جہاں سے یہ لفظ عبقری آیا ہے
اس پہاڑ پر آباد حجازی قبیلوں میں سے ایک قبیلہ کی نسبت سے اسے عبقر کہا جاتا تھا کیونکہ وہ بہادر اور قابل تقلید تھے
عبقری کہنے کی ایک وجہ ایک وادی بھی ہے اس وادی کو ایک عظیم جن کے نام سے منسوب کیا گیا ہے اور اسے عبقر کہا جاتا تھا
اھل عرب کے ہاں مشہور تھا کہ یہ جنوں کی وادی ہے جو شاعروں کو شاعری سکھاتی ہے
اور لفظ عبقری اس وادی سے منسوب ہے جس میں رہنے والے جنوں کو ذکاوت اور مافوق الفطرت ذہانت تھی اسی لیئے ذہین شخص کو عبقری کہتے ہیں
ہم بخوبی جانتے ہیں کہ جنات عجیب و غریب کام کرتے ہیں جو انسان نہیں کر سکتے
کیونکہ وہ نظر نہیں آتے اور انسان کی نگاہ اور حواس سے بالاتر ہیں
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ
عرب کے فصحاء (امرء القیس و اعشی وغیرہ) کے ساتھ اس وادی کے جنات شعراء کا تعلق تھا
اس وادی میں جا کر وادی میں موجود جنات شاعروں سے اشعار وصول کرتے تھے اس لیئے ان کی شاعری میں یہ فصاحت و بلاغت ان جنات سے ہے جنہوں نے انکو شاعری کی تعلیم دی اسی وجہ حدیث پاک میں آیا
ان من البیان لسحرا
بعض بیان جادو ہوتا ہے
یہی وجہ تھی کہ ذہین و فطین حضرات کو عبقری کہا جانے لگا
قرآن کریم نے شعراء کی مذمت یوں بیان فرمائی
وَٱلشُّعَرَاۤءُ یَتَّبِعُهُمُ ٱلۡغَاوُۥنَ أَلَمۡ تَرَ أَنَّهُمۡ فِی كُلِّ وَادࣲ یَهِیمُونَ وَأَنَّهُمۡ یَقُولُونَ مَا لَا یَفۡعَلُونَ
شاعروں کی پیروی تو گمراہ لوگ کرتے ہیں کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ شاعر ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی بات کہتے ہیں جو کام وہ کرتے نہیں ہیں
یہاں پر قرآن کریم نے ان کو وادیوں میں بھٹکنے والا قرار دیا ہے
کیونکہ وادیوں میں جنات ہوتے اور یہ ان کی تلاش میں بھٹکتے تھے کہ کوئی جن ان کو شعر القاء کرے
ایک اعرابی نے کہا میں ایک وادی سے گزر رہا تھا تو ایک بوڑھے شخص کے پاس سے گزرا جس نے چادر اوڑھ رکھی تھی میں نے جان لیا یہ جن ہے
میں نے کہا آپ کو شعراءِ عرب میں سے کسی کا شعر یاد ہے؟
وہ شعر گنگنانے لگا
طاف الخيال علينا ليلة الوادي
من آل سلمي ولم يلم بميعاد
وادی والی رات ساری رات ہمارے ذہن میں یہ خیال سلمیٰ کے گھر والوں کے بارے گھومتا رہا اور اس نے سفر کا ساتھی نہ بنایا
اعرابی نے کہا یہ شعر تو عبید بن الابرص کا ہے
جن کہنے لگا
ومن عبيد لولا هبيد
ھبید نہ ہوتا تو عبید کون ہوتا ؟
یعنی ھبید نہ ہوتا تو تمہارے عبید شاعر کو کون جانتا ؟
اعرابی نے کہا ھبید کون ہے؟
وہ جن کہنے لگا
ھبید میں ہوں
یعنی میں نے تمہارے شاعر کو یہ شعر سکھائے ہیں
{جمهرة اشعار العرب}
اسی میں ہے
لافظ نامی جن امری القیس کا ساتھی تھا
ھبید نامی جن عبید بن الابرص کا ساتھی تھا
ھاذر نامی جن زیاد الذبیانی کا ساتھی تھا
یعنی یہ جنات عربی شعراء کو شعر سکھاتے تھے
{جمھرۃ اشعار العرب}
عرب اپنی شاعری کے بلند ہونے کی وجہ سے دیگر اقوام کو عجم یعنی گونگا کہتے تھے
تو ان کے اس سحر کو توڑ قرآن کریم کے نزول سے ہوا
سابقہ امتوں کے لوگ بھی طرح طرح کے شعبدے اپناتے تو ان کے توڑ کو ان سے بہتر چیز اس وقت کے نبی کو دی جاتی تھی
عربوں میں عبقری سحر بیانی تھی تو اس کا زور قرآنی آیات سے ہوا
آپ دیکھ لیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہودیوں نے جادو کیا تو اللہ رب العزت نے ہمارے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام جیسا عصاء نہیں دیا بلکہ معوذتین {سورہ فلق و ناس} دی ہیں
اسی لیئے علماء کرام فرماتے ہیں
جنات و جادو کے لیئے معوذتین سے بہتر کوئی کلام نہیں ہے
واللہ اعلم
✍️ #سیدمہتاب_عالم
